خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 869 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 869

خطبات طاہر جلد 16 869 خطبہ جمعہ 28 نومبر 1997 ء جو خود تمہاری حفاظت کا موجب بنیں اور عوام کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اپنے فساد کا منہ تمہاری طرف پھیر سکیں۔یہ بات اس وقت ظاہر ہوئی اور ہمیں انتظار تھا کہ دیکھیں آئندہ حکومت کیا کرتی ہے۔تو جیسا کہ میں نے عرض کیا شروع شروع میں ضلعی اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے ہمیں انصاف ملتا رہا اور پھر اچانک ان کی طرف سے بھی انصاف ملنا بند ہو گیا اور یہ وجہ تھی کہ نیچے کا دباؤ بھی تھا اور اوپر کا دباؤ بھی تھا۔ویسی ہی صورت تھی جیسے حضرت نوع کے زمانے کے سیلاب کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ آسمان بھی پانی برسا رہا تھا اور زمین سے بھی تنور پھوٹ پڑا تھا یعنی نیچے سے بھی اور اوپر سے بھی ایسا پانی برس رہا تھا جو غرق کرنے کے لئے برس رہا تھا، بچانے کیلئے نہیں۔چنانچہ جب یہ دو پانی بہہ گئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ان کی ہلاکت کا مضمون یقینی ہو گیا۔بعینہ یہی صورت جو حضرت نوح کے طوفان کی ہے وہ ہم اپنے ملک میں بھی کارفرما دیکھ رہے ہیں۔نیچے کا پانی یعنی عوامی دباؤ جو مولویوں کا دباؤ تھا جسے عوامی دباؤ کی صورت دے دی گئی اور اوپر کا دباؤ یعنی حکومت کا دباؤ یہ دونوں پانی جب ملے ہیں تو پھر وہاں احمدیوں کے لئے کوئی بھی جائے پناہ باقی نہیں تھی۔چنانچہ وکلاء نے مشورہ دیا کہ ان سے اونچی عدالتوں میں جایا جائے اور ہائی کورٹ کی طرف رجوع کیا اور آغاز میں ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کی حمایت کی لیکن پھر ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو نچلی عدالتوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے اور ایسے ظالم جسٹس وہاں مقرر کئے گئے جن کو حکومت کی ہدایت بھی تھی اور علماء کا براہ راست دباؤ بھی تھا کہ احمدیوں کے معاملے میں تم نے ہر گز انصاف مہیا نہیں کرنا۔جسٹس خلیل الرحمان جو کوئٹہ کے ہیں انہوں نے بھی اس سلسلے میں نہایت بھیانک کردار ادا کیا تھا۔احمدیوں کے خلاف سب سے گندہ فیصلہ اور ظالمانہ فیصلہ لکھنے میں جسٹس خلیل الرحمان کا نام ہمیشہ باقی رہے گا یعنی عزت کے ساتھ باقی نہیں رہے گا بلکہ وہ ذلت کے ساتھ باقی رہے گا جو ہمیشہ خدا کے منکرین اور انبیاء کا مقابلہ کرنے والوں کے نصیب میں لکھی جاتی ہے۔پس جسٹس خلیل الرحمان جو کوئٹہ کے سپریم کورٹ کی عدالت کے جسٹس ہیں۔دو جسٹس ہیں وہاں سپریم کورٹ کے ، ان میں سے ایک خلیل الرحمان صاحب بھی ہیں۔ان کا حالیہ فیصلہ اس بحران کا موجب بنا ہے جو اس وقت در پیش ہے۔مگر بہر حال اب میں واپس پھر اس سلسلے کی تاریخ بیان کرتا ہوں کہ ہائی کورٹ نے ایک لمبے عرصے تک جماعت احمدیہ کا ساتھ دیا اور ہر وہ ضمانت جو ایسے عدالتی کیسز (Cases) کے متعلق