خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 950
خطبات طاہر جلد 16 950 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء میں ضمنا یہ بھی بتادوں کہ آج صبح سے بہت دیر پہلے سے میں نے عمد آپانی نہیں پیا کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ رمضان کے روزوں میں جو جمعہ کا خطبہ دیا کروں گا تو کس حد تک میرا منہ خشک ہوگا،کس حد تک مشکل پڑے گی۔آج میں تجربہ کر کے دیکھ لوں تو اس لئے گھبرائیں نہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہے میری ہر بات پہ گھبرانے لگ جاتے ہیں بالکل گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ ایک تجر بہ ہے۔میں سمجھتا ہوں ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے رمضان میں بھی اسی قسم کے خشک منہ والے لیکن گیلے خطبے ہوں گے۔منہ خشک لیکن آنکھیں ترے تو مجھے بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کیونکہ لوگوں کو عادت پڑ گئی ہے۔وہ اپنے آپ کو میرا زیادہ قریبی دکھانا چاہتے ہیں۔فورا فون آنے ، تاریں آنے لگتی ہیں ، آپ کا منہ خشک ہو گیا تھا، آپ کا منہ خشک ہو گیا تھا، ان کو اتنی بھی عقل نہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ کی ساری زندگی ہر خطبے اور تقریر میں پانچ پانچ منٹ کے بعد چائے کی پیالی پیش ہوا کرتی تھی۔ان کو بھول ہی گیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں یہ بلاء صرف مجھ پر پڑی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کا ایک بھی خطبہ، ایک بھی جلسے کی تقریر مجھے یاد نہیں جب حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بار بار چائے کی پیالی پیش نہیں ہوا کرتی تھی اور مجھے یاد ہے کہ میں بھی نیچے پاس بیٹھ جایا کرتا تھا کیونکہ اس جھوٹی پیالی کے لئے ، جو تبرک تھی سارے لوگ ایک دم ہاتھ بڑھایا کرتے تھے اور چائے بہت مزیدار ہوتی تھی اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت اللہ بہتر جانتا ہے تبرک کا شوق تھا یا چائے کا تھا مگر اس چائے کو پینے کے لئے ہم بھی قریب ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور خان صاحب جو حضرت صاحب کے لئے چائے او پر بھیجا کرتے تھے وہ بعض دفعہ دیکھ کے تو باری باری کہتے تھے اچھا لو یہ تمہاری پیالی ہے، یہ تمہاری پہالی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا دور تو آپ میں سے اکثر نے دیکھا ہوگا۔کیا حضرت خلیفہ اسیح الثالث قہوے کی پیالی نہیں پیا کرتے تھے، اس سے بہت زیادہ جو میں پیتا رہا ہوں۔اس قہوے پر بھی ان کو اعتراض نہیں ہوا اور میرے گرم پانی پر اعتراض ہو گیا ہے۔عجیب و غریب ہستیاں ہیں جو میری ہمدرد ہیں۔ان کو سوچنا چاہئے ، عقل کرنی چاہئے کہ یہ سلسلہ آج سے شروع نہیں ہوا۔جو خلافت مجھے یاد ہے اس سے لے کر اب تک تو یہی حال ہم نے دیکھا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ تقریر کے دوران گھونٹ بھر پانی پی لیا کروں تو آپ کو کیا اعتراض ہے اس پر لیکن اب میں پریکٹس کر رہا ہوں کہ نہ پیئوں اور دوائیاں بھی ڈھونڈ رہا ہوں ایسی کہ جس سے لوگوں کو چھٹکارا ہو، مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ، لوگوں کو اس مصیبت