خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 938
خطبات طاہر جلد 16 938 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء بھی پرواہ نہ کروں۔“ ( ملفوظات جلد 1 ، صفحہ:200) امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی یہ خواہش بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے اور کثرت سے وہ ہیں جو دنیا کمانے والے، دنیا میں جان کھپانے والے تھے مگر اب نہیں رہے اور آپ کے دل کی بے قراری کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح قبولیت بخشی ہے کہ ان کو الگ کر کے باقیوں کو پیچھے چھوڑنے کی ضرورت نہیں رہی اب مسلسل ان لوگوں میں سے وہ نکل رہے ہیں ، ایسے لوگ نکل رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمہ تن خدمت دین میں مصروف ہیں اور زیادہ سے زیادہ مصروف ہوتے چلے جارہے ہیں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب لکھتے ہیں: رات کسی درد سے حضرت امام فرماتے ہیں آہ اب تو خدا کے سوا کوئی ہمارا نہیں رہا۔“ یہ تقویٰ کے الہامات کا نتیجہ تھا جو رات کو ہو رہے تھے۔کتنی گہری نظر ڈالی ہے۔یہ خیال نہیں کیا کہ تقویٰ کی تعلیم ہے تقویٰ پہ انشاء اللہ ہم عمل کریں گے۔یہ محسوس ہوا ہے کہ تقویٰ کے بغیر ہماری زندگی کا کوئی بھی سہارا اب نہیں رہا اور تقویٰ کی طرف توجہ اس لئے دی جارہی ہے کہ اگر نہ دی تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔یہ غم تھا جو آپ کی جان کو لگ گیا۔آہ اب تو خدا کے سوا کوئی ہمارا نہیں رہا۔اپنے پرائے سب ہی اس پر تلے ہوئے ہیں کہ ہمیں ذلیل کر دیں۔رات دن ہماری نسبت مصائب اور گردشوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ ہماری مدد نہ کرے تو ہمارا ( ملفوظات جلد 1 ، صفحہ: 200 201) ٹھکانہ کہاں۔یہی کیفیت بعینہ اس وقت پوری ہو رہی ہے۔صرف پاکستان کا ذکر نہیں ہے دنیا میں ہر جگہ جہاں بھی جماعت ترقی کر رہی ہے رات دن لوگ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور منصوبے بنار ہے ہیں اور طرح طرح کی جھوٹی باتیں جماعت کے اندر مشہور کر رہے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ان ملکوں کی زمینیں ان پر تنگ ہو جائیں، جس کے نتیجے میں ان کے دوست دشمن ہو جائیں۔یہ وہ کیفیت ہے جس سے بچنے کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے۔پس آپ فرماتے ہیں: