خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 937
خطبات طاہر جلد 16 937 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء ” جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ 66 کی نصرت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔“ اب یہ جو عبارت میں پڑھ کر سنا رہا ہوں یہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ایک خط میں سے لی گئی ہے جو 23 جون 1899ء کو آپ نے لکھا اور الحکم میں شائع ہوا۔آپ اسی مجلس میں موجود تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رات کے الہام کا ذکر کیا۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب کی یہ تحریر ہے۔جو الفاظ ہیں جس قدر ان کو یاد تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے الفاظ ہیں۔فرمایا جو آیا ہے یہاں اس سے میں کہہ رہا ہوں۔یہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے الفاظ ہیں۔فرمایا: ”جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں منتقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال نہیں ہوسکتی۔فرمایا: تقوئی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت اور انجیل کی تعلیمات کا۔‘ ( ملفوظات جلدا، صفحہ: 303) اب اس میں تقویٰ کو اسلام سے خاص نہیں فرمایا گیا۔فرمایا تقویٰ تو ہر مذہب کی جان ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ صرف اسلام ہی تقویٰ کی بات کرتا ہے۔تمام مذاہب کی روح اور تمام مذاہب کی جان تقویٰ میں تھی۔" تقویٰ خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت اور انجیل کی تعلیمات کا۔قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔فرمایا ”میں اس فکر میں بھی ہوں۔(اب یہ غور سے سننے والی بات ہے۔) میں اس فکر میں بھی ہوں کہ اپنی جماعت میں سے بچے متقیوں ، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین الی اللہ ، ( یعنی وہ لوگ جو اللہ کی خاطر دنیا کو تج دیتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں ) کو الگ کر دوں اور بعض دینی کام انہیں سپر د کروں اور پھر میں دنیا کے ہم وغم میں مبتلا رہنے والوں اور رات دن مردار دنیا ہی کی طلب میں جان کھپانے والوں کی کچھ