خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 933
خطبات طاہر جلد 16 933 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؟ اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جائے۔جسمانی نقصان پر جس طرح آپ افسوس کرتے ہیں اگر روحانی نقصان پر اس طرح افسوس کریں تو اللہ تعالیٰ پھر وہ تقویت عطا کرتا ہے جس کے نتیجے میں آپ اپنی نمازوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔فرماتے ہیں: انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا انس ، ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے۔(ایک چور نے آپ کی چیزیں اڑا لی ہیں۔) جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔اسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ: 310،309) اب یہاں پہنچ کر جو پہلی مثال تھی اس کو چھوڑ دیا ہے اور عرف عام میں ایک ایسی بات کی ہے جو ہر ایک کی سمجھ میں واضح طور پر آسکتی ہے۔وہ خبیث کی چوری کا جو ذکر ہے وہ ایک ایسا مفہوم ہے جو شاید آپ کا تصور اس کو پکڑ نہ سکے لیکن یہ بات آپ کو معلوم ہے۔فرماتے ہیں بسا اوقات اچھا کھانا تو نصیب ہوتا ہے مگر اس کھانے کا ذوق جاتا رہتا ہے اور یہ ذوق کا جانا بیماری کے نتیجے میں ہوا کرتا ہے۔اچھے سے اچھا کھانا آپ کے سامنے پیش ہوا گر آپ بیمار ہوں گے اور ذوق نہیں ہوگا تو کھانے کا کوئی مزہ نہیں آئے گا۔پس یہ کھانے کا تو قصور نہیں ہے یہ تو کھانے والے کا قصور ہے۔اس کی زبان کا قصور ہے جو اسے چکھ رہی ہے اور مزہ نہیں حاصل کر رہی۔پس اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نماز کا تجزیہ فرمایا ہے اس کو پیش نظر رکھیں۔اس کے بعد فرماتے ہیں: حقیقی نماز یا درکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔بہت سے لوگ ہیں جن کو سر دست دنیا تو عزیز ہے نماز اتنی عزیز نہیں۔اگر یہ بات اپنے پلے باندھ لیں کہ نماز دین کے لئے نہیں دنیا کے لئے بھی ضروری ہے تو یہ بات ایسی ہے جس کو ہر مومن کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ دنیا کی ضرورتیں تو لاحق ہیں ہی اس کو ، ان کے لئے دیکھو کیا کیا تدبیریں