خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 932
خطبات طاہر جلد 16 932 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء کے جسم ہمیشہ نماز میں لذت نہیں پاتے ان کا تھکنا لا زمی امر ہے اور یہ کسی بدی کی علامت نہیں ہے۔یہ سالک جوابتداء میں سفر کرتا ہے اس کو اسی طرح تجربہ ہوا کرتا ہے کہ دوام کے طور پر اپنی نماز کی حالت کو ایک جیسا نہیں رکھ سکتا۔حضور فرماتے ہیں: ہمت نہیں ہارنی چاہئے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔“ فرمایا آپ کے ہاتھ سے کچھ کھویا گیا اگر آپ احساس رکھیں گے کہ کچھ کھویا گیا ہے تو یہ احساس بہت اہم ہے اور فکر میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ کچھ کھویا گیا ہے۔فکر میں مبتلا ہونے کی ضرورت تو ہے مگر اگر فکر میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ جو کھویا گیا تھا وہ پھر حاصل ہوگا، یہ مطلب ہے۔فرماتے ہیں: جیسے چور آوے اور وہ مال اڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے۔(اگر نماز میں لذت جاتی رہے تو افسوس ضرور کرنا چاہئے جیسے مال کے کھوئے جانے کا افسوس ہوتا ہے ) اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ اس 66 خطرے سے محفوظ رہے۔“ جب دنیاوی مال چور اڑا کر لے جائے تو جو دکھ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں بعض دفعہ الارم لگائے جاتے ہیں کھڑکیوں ، دروازوں کو مضبوط کیا جاتا ہے تو حضور فرمارہے ہیں اس کا نتیجہ نکلنا چاہئے کہ تم اپنی نماز کی حفاظت میں مزید سامان کرو۔اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔“ جو خبیث لے گیا ہے، مراد ہے شیطان۔جسمانی ڈاکہ مارنے والے بھی گندے لوگ ہوا کرتے ہیں مگر شیطان کو خبیث کہا گیا ہے اور فرمایا: جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے۔“ ( اس نے گویا ڈا کہ مار دیا ہے اور وہ تمہاری نماز کی لذتوں کو لے اڑا ہے)۔“