خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 931

خطبات طاہر جلد 16 931 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدے کی صورت میں کرتے ہیں۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی تو اس کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ: 696تا697) اس کے نتیجے میں بہت سی جسمانی بیماریاں لگ جاتی ہیں اور ہومیو پیتھی کا آج کل جماعت میں چرچا ہے سب ہو میو پیتھ جانتے ہیں اس اثر کو کہ اگر صدمے کے نتیجے میں فوری طور پر صدمے کا ازالہ نہ کیا جائے تو گہری تازندگی چمٹ رہنے والی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حقیقت کو بھی سمجھتے تھے اور باوجود اس کے کہ ہومیو پیتھی سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ روح پر صدمے کے اثر سے لازماً جسمانی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سوال کا جواب دیتے ہیں: و کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی وہ لذت جاتی رہتی ہے اس کا کیا علاج ہے۔“ اس ضمن میں ایک بات تو میں یہ بتا دوں اور یہ ایک تنبیہ ہے کہ جس طرح لوگوں نے ہر طرف سے نماز کے خطبات کے نتیجے میں اپنی نمازوں کی طرف توجہ شروع کی ہے مجھے بعضوں کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ نہ کر دیں اس کا دماغ پر اثر ہو سکتا ہے۔بہت سے ایسے کمزور انسان ہوتے ہیں جو جلدی میں روحانی مراتب چاہتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد ان کے دماغ کو یہ کوفت اتنی چڑھ جاتی ہے کہ خیالی مراتب کے تصور میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ وہ مذہبی جنونی بن جاتے ہیں۔اس لئے آنحضرت میر کی اس نصیحت کو کبھی نہ بھولیں کو جو نیکی کا سفر ہے اس میں آہستگی رکھیں، آرام سے سفر کریں۔کبھی قیلولہ بھی کر لیا کریں اور کبھی جب موسم خوشگوار ہو، جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی ہوائیں چلیں کہ جب اس کی عبادت کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہوتی ہے اس وقت زیادہ زور سے قدم ماریں۔یہ طریق ہے جس پر چل کر انشاء اللہ بھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اسی عنوان سے میری توجہ اس طرف گئی ہے کہ بعض دفعہ ویسے کبھی لذت آتی ہے کبھی چلی جاتی ہے اور یہ منافقت کی علامت نہیں ہے۔انسانی فطرت ایک زور مارتی ہے پھر کچھ تھک کر آرام کرتی ہے یعنی وہ لوگ جن