خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 930
خطبات طاہر جلد 16 930 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان لوگوں کو مخاطب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں رونا نہیں آتا نماز میں۔آپ نے فرمایا تکلف کرو، کوشش کرو اور یہ تکلف جائز ہے، یہ بناوٹ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو یاد کرنے کے لئے جو روح کی کیفیت ہے اس رونے میں مضمر ہے جو خدا کی یاد کے ساتھ آنا چاہئے۔اگر وہ نہیں ہے تو یہاں تکلف ناجائز نہیں اور چونکہ اس تکلف کا اپنی ذات سے تعلق ہے، لوگوں کے سامنے منہ بنانے سے تعلق نہیں ہے اس لئے اسے ہرگز منافقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔فرماتے ہیں: اسی طرح پر نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں مثلاً کھڑا ہونا ، رکوع کرنا، اس کے ساتھ روح پر بھی اثر پڑتا ہے۔“ یہ مضمون بیان فرمانے کے بعد پھر حضور فرماتے ہیں: ”جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے۔جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔کتے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آکر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں۔“ اب یہ مثال دیکھیں کتنی سچی مثال ہے۔کتے بھی جب اپنے مالک سے محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اپنا سر اس کے پاؤں پر رکھ دیتے ہیں۔میں نے بھی بچپن میں شکار کے شوق میں کتے پالے ہوئے تھے یا گھر کی حفاظت کے لئے اور اسی لئے آخر ان کو رخصت کرنا پڑا کیونکہ مجھے اس سے بڑی گھبراہٹ ہوتی تھی کہ وہ اپنی محبت کا اظہار میرے پاؤں چاٹ کر کیا کرتے تھے اور کتوں کے چاٹنے سے جو انسان میں مومنوں میں ایک طبعی کراہت ہے اس کی وجہ سے آخر مجھے ان کو رخصت کرنا پڑا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس بات کے ساتھ مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا کہ بچپن میں میں نے خود دیکھا ہوا ہے جب مالک گھر میں داخل ہوتا ہے تو جب آپ کتوں سے پیار کرتے ہیں، ان کی روٹی کا خیال رکھتے ہیں، ان کی آسائش کا خیال رکھتے ہیں تو وہ دوڑ کر آ کر پاؤں چاٹنے لگتے ہیں اور ایک قسم کا سجدہ کر دیتے ہیں مالک کو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کتے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آکر اس کے