خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 924 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 924

خطبات طاہر جلد 16 924 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء ایک تعلق قائم رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں، وہ اللہ کے حضور ان سے خیر چاہتے ہیں۔پس شہداء کی زندگی کا تعلق خدا تعالیٰ سے اس رنگ میں ہے کہ وہ اس سے عرض حال کرتے ہیں ، دعائیں کرتے ہیں کہ ہمارے پچھلوں کو بھی وہ اپنے فضل سے نوازے اور اپنے پچھلوں کا خیال رکھتے ہیں حالانکہ مردوں کو اپنے پچھلوں کا کوئی خیال نہیں ہوا کرتا۔پس یہ ان کا خیال رکھنا بتا رہا ہے کہ ان کی زندگی ان کے پچھلوں کو بھی روحانی لحاظ سے اور مادی دنیوی لحاظ سے زندہ کر گئی ہے یعنی یہ نئی زندگی جو ان کو ملی ہے اس کا ان کے پسماندگان سے ایک ایسا گہراتعلق ہے جو عام مر دوں کو نہیں ہوا کرتا۔اور بھی بہت سی باتیں ہوں گی کیونکہ لا تَشْعُرُونَ میں جو خدا تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم شعور نہیں حاصل کر سکتے اس میں اگر پورا ہمیں شعور حاصل ہو جائے تو پھر وہ بات غلط ہو جائے گی، اس لئے میں اندازے پیش کر رہا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی مراد ہوگی، یہ بھی مراد ہوگی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں پوری طرح شعور ہے۔اتنا یقین رکھنا چاہئے بہر حال، خواہ ہمیں شعور ہو یا نہ ہو کہ یہ لوگ زندہ ہیں مردہ نہیں ہیں۔اس کے بعد میں مظفر احمد شہید کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جدائیوں کے دکھ تو ہوتے ہیں لیکن ان آیات نے ایسی تسلی دی ہے کہ ان کے بعد غم اور واویلے میں یعنی گہرے غم اور واویلے میں تبدیل نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یہ وعدہ ہے کہ یہ اور قسم کے لوگ ہیں، یہ بھی زندہ ہیں تمہیں پورا شعور حاصل نہیں ہے اس وجہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ ہماری جماعت میں بھی خدا تعالیٰ نے اولین کی طرح شہادتوں کا ایک سلسلہ جاری کر دیا ہے۔یہ شہادتیں جو نیک کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے دشمن کے چیلنج کے باوجود پیش کی جائیں یہ شہادتیں بہت ہی قابل قدر ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شہادت کے خوف سے کام نہیں رکنا۔دشمن چاہے جو کر گزرنا چاہے کرے لیکن اس ڈر سے کہ ہم قتل نہ ہو جائیں کام نہیں رکنالیکن اس کے ساتھ ہی تبلیغ میں جو اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حکمت سے کام لو وہ بھی ضروری ہے۔بیک وقت دو چیزیں ہیں جن کے میزان کا نام کا میاب تبلیغ ہے۔اور اللہ تعالیٰ اگر چہ شہادت کے متعلق ہمیں یہ خوشخبری عطا کر رہا ہے کہ بہت بڑی چیز ہے