خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد 16 916 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء مجبور کرتی تھی چنانچہ میں نے اپنے بھائیوں کو کہا کہ دیکھو یہ تمہارے باپ کی بجائے ، ان سے بڑھ کر ہیں۔ہماری نسلیں بھی اس احسان کو پورا نہیں کر سکتیں اس وجہ سے تم یہی سمجھو کہ تمہارا باپ تمہارے اندر دوبارہ آ گیا ہے۔بلکہ اس باپ سے بڑھ کر ایک وجود تمہارے اندر آ گیا ہے۔چنانچہ یہ رازاب کھلا ہے مجھ پر کہ کیوں فضل ڈوگر کے بھائی صدیق، بشیر اور غلام احمد اور سارے خاندان نے ان کی ایسی خدمت کی ہے کہ واقعہ کوئی اپنے باپ کی بھی اس سے بڑھ کر خدمت نہیں کرسکتا۔سارے سفر میں ساتھ لئے پھرے ہیں۔ہر جگہ رہائش کا انتظام کیا ہے اور جب بھی خدمت کا موقع ملا اسے اپنی عزت افزائی سمجھا اور ظاہر یہی کیا جیسا کہ حق تھا کہ یہ ہمارا احسان نہیں ، آپ کے احسان کا پورا بدلہ نہیں ، ایک معمولی سا اظہار ہے جو ہم آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔پس اللہ کے فضل کے ساتھ ان سب بھائیوں نے بھی آپ کی بہت خدمت کی ہے اور میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ھل جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْاِحْسَانُ (الرحمن : 61) انہوں نے تو احسان کا بدلہ اتارا ہے مگر ہمارے ایک محبوب قائد جو سارے پاکستان کے ناظر اعلیٰ بھی تھے، امیر مقامی بھی تھے ،صدر انجمن احمدیہ کے صدر بھی تھے ان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یادرکھیں۔یہ تو مضمون ہے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے متعلق ، آج ان کی نماز جنازہ ربوہ میں پڑھائی جا چکی ہے۔کثرت کے ساتھ تمام پاکستان کی جماعتیں شریک ہوئی ہیں۔یہ میرا اندازہ ہے کہ شریک ہو گئی ہیں، پہلی جماعتوں کی طرف سے یہ اطلاعیں آرہی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ بہت کثرت سے لوگ آرہے ہیں لیکن ابھی تک ربوہ کی طرف سے اطلاع نہیں مل سکی۔مجھے تعجب ہے کہ کیوں ایسا ہوا ہے حالانکہ نماز جنازہ کے بعد فوری طور پر مطلع کرنا ان کا فرض تھا کہ مجھے اطلاع دیتے کہ کیسی نماز جنازہ ہوئی، کیا واقعات ہوئے ،لوگوں کا کس قدر ہجوم تھا۔اس سارے ماحول کی تصویر کھینچنی ضروری تھی لیکن مجھے بہت تعجب ہے۔ہم نے جتنی دفعہ بھی کوشش کی ہے تمام فونوں کو مصروف پایا اور جمعہ پر آنے سے پہلے تک ہمارا رابطہ نہیں ہو سکا۔مگر یہ تو سارے پاکستان سے جہاں سے چاہتے رابطہ کر سکتے تھے۔اس لئے مرکز کو یا ہمارے ہیڈ کوارٹر ، مرکز تو یہی ہے جہاں میں ہوں ، ہیڈ کوارٹر یعنی ربوہ میں جو نظام جاری ہے ان کو اتنی ہوش کرنی چاہئے کہ بڑے بڑے اہم معاملات ہوتے ہیں اور وہ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھے رہ جاتے ہیں۔اس سے پہلے بھی جو حالات گزرے