خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 915 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 915

خطبات طاہر جلد 16 915 خطبہ جمعہ 12 دسمبر 1997ء دیکھیں وہ کیوں خوش ہیں اسی لئے کہ وقت کا خلیفہ ان سے راضی ہے۔میں بھی اسی لئے خوش ہوں۔یہاں بھی بہت خطرناک حملے ہوئے بیماری کے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان بیماریوں سے نجات ملی۔واپس جا کر بھی حملہ ہوا اس سے بھی پھر نجات ملی۔بے حد بہادر انسان تھے کہ کم دنیا میں اتنے بہادر انسان دیکھنے میں آتے ہیں۔وہم ہوتا تھا تو دوسروں کے متعلق ، اپنے متعلق نہیں۔میری بیماری کا خطرہ ، خوف ، اور بچوں کو کہنا خیال رکھیں۔اگر کوئی تاخیر ہو جائے کہیں سے آنے میں مثلاً ایک دفعہ یہ پہلے پہنچ گئے اور مجھے آنا چاہئے تھا مگر دیر میں آیا تو بے انتہا گھبراہٹ تھی ، ٹہلتے پھرتے تھے کہ کیوں نہیں ابھی تک پہنچے۔تو اپنے متعلق بالکل بے خوف اور دوسروں کے متعلق بے حد خوف رکھنے والے کہ کہیں کسی خطرناک واقعہ میں مبتلا نہ ہو گیا ہو، کسی مہلک حادثے کا شکار نہ ہو گیا ہو۔ساری زندگی سادہ گزری ہے۔بالکل بے لوث انسان اور سادہ زندگی گزارنے والے۔ناظر اعلیٰ بھی اور اور اپنے بچے مسرور کو ساتھ لے کر زمینوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔وہاں زمینداروں کے ساتھ بیٹھ کر اسی طرح باتیں کر رہے ہیں۔ذرا بھی ان کے اندر کوئی انا نیت نہیں پائی جاتی تھی۔بالکل سادہ لوح، غذا اگر مزے کی ہے تو اچھی لگے گی پر اگر نہیں بھی ہے تو خوشی سے کھاتے تھے اور ہر چیز میں ایک قناعت پائی جاتی تھی۔پس اس ذکر خیر میں اگر چہ طول ہو گیا ہے لیکن یہ ذکر خیر ہے ہی بہت پیارا۔اب میں ساری جماعت کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور بعد میں مرزا مسرور احمد صاحب کے متعلق بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح جانشین بنائے تو ہماری جگہ بیٹھ جا کا مضمون پوری طرح ان پر صادق آئے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ خودان کی حفاظت فرمائے اور ان کی اعانت فرمائے۔اس سفر کے دوران یہاں بعض لوگوں نے آپ کی ایسی خدمت کی ہے کہ اگر ان کا ذکر نہ کروں تو یہ ناشکری ہوگی۔سب سے پہلے تو فضل احمد صاحب ڈوگر ہمارے شکریہ اور دعاؤں کے محتاج ہیں۔اصل بات کچھ اور تھی اور میں کچھ اور سمجھا کرتا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ فضل احمد صاحب ڈوگر میاں غلام احمد صاحب جو ان کے داماد ہیں ان کے ساتھ تعلق کی وجہ سے یہ خدمت کر رہے ہیں لیکن جب میری علیحدہ ملاقات ہوئی تو اس وقت انہوں نے ایک راز کی بات بتائی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے باپ پر ان کا ایک احسان ہے جو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔صرف یہ احسان تھا جس کی یاد مجھے