خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 911
خطبات طاہر جلد 16 911 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء ہوں۔وہ الہامات سنئے۔شریف احمد کی نسبت اس کی بیماری کی حالت میں ( یہ 1907ء کا واقعہ ہے) الہامات ہوئے عمرهُ اللهُ على خلاف التوقع ( تذکر : 609) اللہ نے اس کو لمبی عمر دی خلاف توقع۔خلاف توقع سے مراد یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوتے رہے کہ پہلے مر جانا چاہئے تھا مگر خدا تعالیٰ نے بغیر توقع کے بار بار زندگی عطا فرمائی۔پھر فرما یا مره الله على خلافِ التّوقع اللہ نے اسے صاحب امر بنایا یعنی امیر اور اس کا یہ امیر بننا خلاف توقع تھا۔یعنی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ یہ شخص اتنے لمبے عرصے تک امیر بنایا جائے گا۔ان الہامات کے جو ترجمے تذکرہ میں درج ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ ترجمے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک ایسا ترجمہ کر رہے ہیں جو خلاف واقعہ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ترجمہ کیا جائے۔چنانچہ وہ ترجمہ یہ تھا جس کو میں خلاف واقعہ ترجمہ سمجھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ علماء نے اس خواہش میں کہ اس پیشگوئی کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب پر لگا دیا جائے یہ ترجمہ کیا ہے اُس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا یعنی مال و دولت دے گا۔آمرہ اللہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امیر کرے گا ، امرہ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اسے امیر بنایا جائے گا یعنی صاحب امر بنائے گا اور ایک دوسرے الہام سے بعینہ یہی بات ثابت ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ بادشاہ آیا اور اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ قاضی کے متعلق یہ الہام ہوا ہے وہ قاضی یعنی صاحب امر بنایا جائے گا۔تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی تشریحات دوسرے الہامات کی روشنی میں اس ترجمے کو جو تذکرے کے نیچے چھپا ہوا ہے غلط قرار دے رہی ہیں اس لئے میں نے جب علماء سے فوری طور پر تحقیق کر کے رپورٹ کرنے کا کہا۔مولوی دوست محمد صاحب جو ما شاء اللہ اس مضمون کے ماہر ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ترجمے یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ترجمے نہیں ہیں۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے 1935ء میں جب تذکرے کی اشاعت پر ایک نوٹ لکھا اس میں یہ وضاحت کی کہ ہم نے تمام ترجمے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے تھے وہ عبارت کے اندر داخل کر لئے ہیں اور حاشئے میں نہیں اتارے گئے۔حاشئے میں اتارے جانے والے ترجمے بعد میں علماء نے کئے ہیں۔تو یہ جو میری Suspicion تھی یا مجھے شک تھا بلکہ میرا یقین تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ترجمہ ہو نہیں سکتا یہ میں نے ربوہ سے