خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 910 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 910

خطبات طاہر جلد 16 910 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء اور اسے اس ملک کے امور سلطنت میں دخل اندازی سے کلیۂ الگ کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ بہت بڑا عظیم ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔پس ہماری یہ تمنا ہے اور یہ دعائیں ہیں۔اب انہیں جس طرح چاہیں غلط رنگ میں آپ پیش کرتے رہیں۔مگر وہ غلط رنگ میں ان کا پیش کرنا آپ کے خلاف جائے گا کیونکہ ہمیں ایک قادر مطلق پر ایمان ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمارے دل کی آہوں کو سنتا ہے اور تمہاری یاوہ گوئی جو سنتا ہے تو تمہارے خلاف رد عمل کے لئے سنتا ہے، تمہاری یاوہ گوئی کو خود تمہارے خلاف استعمال کرنے کے لئے تمہاری باتیں سنتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کی تائید میں ہمیشہ ہماری پشت پناہی پہ ہمارا خدا کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا آپ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔اب میں اس مضمون کو جاری رکھنے سے پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا امنصور احمد صاحب کے وصال سے متعلق چند امور بیان کرنا چاہتا ہوں۔آپ کی سوانح الفضل میں بھی شائع ہو چکی ہے، وہاں بھی مختلف جماعتوں میں غالباً انجمن کے ریزولیوشن کے طور پر بھی پھیلائی گئی ہے ، ان تفاصیل میں میں نہیں جانا چاہتا جو پہلے بیان ہو چکی ہیں لیکن آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے کچھ الہامات تھے جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب پر چسپاں کئے گئے اور میں وہ فرد واحد ہوں یا اور بھی شاید ہوں، جو شروع ہی سے یہ یقین رکھتا تھا کہ یہ الہامات اصل میں آپ کے صاحبزادہ حضرت مرزا منصور احمد صاحب سے متعلق ہیں۔یہ امر واقعہ ہے کہ بعض الله پیشگوئیاں ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ایسا واقعہ ہو چکا ہے، ایک شخص کے متعلق کی جاتی ہیں لیکن بیٹا مراد ہوتا ہے۔وہ الہامات جیسا کہ میں اب آپ کے سامنے کھول کر بیان کروں گا بلاشبہ ایک ذرہ بھی شک نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے بیٹے کی صورت میں پورے ہونے تھے اور آپ ہی پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔یہ بات میں ہمیشہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب سے بیان کرتا رہا لیکن یہ ہمارا آپس کا ذاتی معاملہ تھا۔شروع میں تو جیسا کہ ان کی بیحد انکسار کی عادت تھی انہوں نے قبول کرنے میں تردد کیا یعنی خاموشی اختیار کر جاتے تھے۔بالآخر جب میں نے مسلسل دلائل دئے اور میں نے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ مراد نہ ہوں تو پھر ان کو تسلیم کرنا پڑا اور اس بات کی گہری مسرت تھی کہ الہامات میں میں بھی داخل