خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 909 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 909

خطبات طاہر جلد 16 909 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء اخذ کئے تھے لیکن بعینہ مطابق ہیں کہنا درست نہیں اس سے بہت زیادہ آگے بڑھ گئے ہیں اور ملک کے اندر رہتے ہوئے یہ لوگ کھلم کھلا ملک کے خلاف بغاوت کا اعلان کر رہے ہیں۔اعلان کے ساتھ آئین کورڈی کا ٹکڑا قرار دے رہے ہیں۔وہی الفاظ استعمال کر رہے ہیں کہ یہ بحران اس کو بھی لے ڈوبا ، اسکو بھی لے ڈوبا، عدالت علیاء کو بھی لے ڈوبا اور صدر کو بھی لے ڈوبا۔اب بتائیں سازش کس کی ہے۔یہ ساری باتیں ہم یہاں بیٹھے قوم سے کروار ہے ہیں؟ اگر ساری قوم اس قدر پاگل ہو چکی ہے کہ یہاں بیٹھے میرے کہنے کے مطابق بحران کے بعد بحران کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے تو ساری قوم کو غدار قرار دے کر پھانسی دے دینی چاہئے پھر لیکن میں یہ نہیں کہتا یہ ایک ملاں کہہ رہا ہے۔میرے نزدیک حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے، یہ کوئی غذاری نہیں ہے اور ساری قوم بالکل صحیح کہہ رہی ہے کہ اس قانون کو ، اس آئین کو جواب اس قابل نہیں رہا کہ ملک پر مسلط کیا جائے اسے دور کر دیا جائے تو پھر ملک کو دوبارہ اطمینان کا سانس نصیب ہوسکتا ہے۔یہ تو آئین سے متعلق باتیں تھیں۔میں قوم کو دوبارہ متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب کر کے قرآن کریم نے جو کچھ فرمایا ہے یہ آپ کے ساتھ ہورہا ہے اور مزید ہوگا۔اگر آپ کو کوئی چیز بچاسکتی ہے تو آپ کی ایک دوسرے سے منافقت اور مناقشت نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کی متحدہ دعائیں ہی آپ کو بچا سکتی ہیں۔جو بچانے والے ہیں ان کو تو آپ نے اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔جن کی دعائیں خدا کے حضور ، خدا کی بارگاہ میں قبولیت کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں ان کو آپ نے اپنا دشمن بنا رکھا ہے اور آپ تو دعا کے مضمون سے ہی نا واقف ہیں۔صرف چیخ و پکار اور ایک دوسرے کو گالیاں دینا، ایک دوسرے کے گریبان چاک کرنا یہ آپ کا شیوہ بن گیا ہے۔اس لئے اس ملک سے بد بخت ملاں کو نکالو، یہ آپ کی گردنوں پر سوار ہے یہی بحران لاتا ہے اور اگر آئندہ کوئی بحران مزید آیا تو یہی ملاں لانے کا سبب بنے گا۔اس لئے اپنے دشمن کو پہچانو اور عقل کرو۔اگر پاکستان سے ملائیت کا خاتمہ کر دیا جائے تو یہ ملک دنیا کے عظیم ترین ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا، یہ ایک ایسا بیان ہے جسے قلم زد نہیں کیا جا سکتا۔آپ چنیں چلا ئیں جو مرضی اس کے خلاف کہیں لیکن اس بات کو اپنے دلوں پر ، اپنے سینوں پر لکھ لیں کہ اس ملک سے اگر ملاں کا فساد دور کر دیا جائے