خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 905 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 905

خطبات طاہر جلد 16 905 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء کر سکا تو یہ آئین ایسا غلط آئین ہے کہ یہ اس ملک کو غرق کر سکتا ہے۔یہ ایک تنبیہ تھی اور بالکل صحیح تنبیہ تھی اس میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ بعینہ یہی بات قوم کی آواز تھی لیکن جیسا کہ ملانوں کی عادت ہے انہوں نے وہ شور و غوغا مچایا سارے ملک میں کہ مرزا طاہر احمد نے اس بحران میں اپنا ملوث ہونا تسلیم کر لیا ہے اور یہ سارا بحران قادیانیوں کی کارروائی ہے۔ایسے احمق لوگ ہیں کہ سوچ ہی نہیں رہے کہ یہ بات کیا کر رہے ہیں۔اس بحران میں ملوث کون لوگ ہیں؟ ایک نواز شریف صاحب، ایک صدر مملکت ، ایک سجاد صاحب جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور کہتے ہیں کہ اب بھی ہوں اور دوسرے تمام چیف کورٹس کے جسٹس صاحبان اور مختلف صوبوں کی صوبائی عدالت انصاف کے نمائندے بھی۔یہ سارے لوگ اس بحران میں ملوث ہیں۔اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ بحران قادیانیوں نے پیدا کیا ہے تو ان سب پر مقدمہ ہونا چاہئے۔ہر ایک کو عدالت میں پیش ہونا چاہئے اور ان سے پوچھا جائے کہ کیوں نواز شریف صاحب آپ کو جب قادیانیوں نے ملوث کیا تھا تو ملوث ہوئے کیوں؟ کچھ عقل کرنی چاہئے تھی۔قادیانی آپ کو اکسار ہے تھے اور آپ اچھل کر پھر اس معاملے میں دخل دینے لگے اور عدالت عالیہ سے ایک بحران میں الجھ گئے اور پھر جسٹس سجاد سے سوال ہونا چاہئے تھا ، چیف جسٹس بنے ہوئے ہو آپ کو اتنی عقل نہیں کہ قادیانیوں کے کہنے پر آپ نے اس بحران میں دخل دیا ہے۔پھر باقی سب حجج صاحبان کو پکڑنا چاہئے تھا اور لغاری صاحب کو خصوصیت سے پکڑنا چاہئے تھا اس لئے کہ لغاری صاحب نے اپنے بیان میں بعینہ یہی بات کہی ہے کہ یہ بحران قادیانیوں نے ہم پر مسلط کر دیا ہے۔اس کا اول کر دار تو خود لغاری صاحب ہیں۔سارا جھگڑا تو ان کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔وہ اور قاضی صاحب یہ دومل گئے ہیں۔اللہ نے ایک جوڑی ملا دی ہے لیکن ان دونوں سے پوچھا تو جائے کہ احمقو! تمہیں جب قادیانیوں نے کہا تھا تم نے انکار کیوں نہیں کر دیا اور قادیانیوں کے کہنے پر تم بگٹٹ (یعنی جس کی باگ ٹوٹ جائے ) دوڑے ہو اور اس بحران میں ملوث ہو گئے ہو اور ملک کو ملوث کر دیا ہے۔یہ ان کی حماقت کا حال ہے۔در اصل مولویوں کو یہ احساس ہوا ہے کہ یہ آئین تو ٹوٹنے والا ہی ہے اور اگر یہ آئین ٹوٹ گیا تو احمد یوں والی دفعہ بھی ساتھ ہی نکل جائے گی۔اچانک گھبرا کر وہ بیدار ہوئے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔چنانچہ ان سب نے بظاہر ایکے کا اعلان کیا ہے کہ ہم اس معاملے میں اکٹھے ہو جائیں گے اور