خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 904
خطبات طاہر جلد 16 904 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء یہ وہ سورۃ انعام کی آیات ہیں جن کا آج کل ہمارے ملک پر بعینہ اطلاق ہو رہا ہے اور اس صلى الله قوم نے جو اپنے وقت کے امام کو جھٹلایا ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا سچا نمائندہ تھا تو عملاً انہوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں کا انکار کر کے آپ ہی کی تکذیب کی ہے خواہ یہ منہ سے مانیں یا نہ مانیں اس حقیقت سے کوئی انکار ممکن نہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ کی پیشگوئیوں کے مطابق ظاہر ہوئے تھے ، جیسا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی ظاہر ہوئے تو پھر آپ کا انکار آنحضرت ﷺ کے فرمودات کا انکار ہے اور اس انکار کے نتیجہ میں جو کچھ خدا تعالیٰ ایسی قوم سے سلوک فرمایا کرتا ہے ان آیات میں اسی کا ذکر ہے۔فرمایا قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمُ ان کو بتا دو کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے سر کے اوپر سے بھی عذاب لے آئے اور پاؤں کے نیچے سے بھی عذاب نکال دے یا تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے، گروہ در گروہ بانٹ دے۔يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَ يُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ اور تم میں سے ایک گروہ کی طرف سے دوسرے کو تکلیف پہنچے اور آپس میں لڑائی پیدا ہو۔اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِفُ الْآيَتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ دیکھ ہم کس طرح کھول کھول کر اپنے نشانات کو بیان کرتے ہیں تا کہ یہ لوگ سمجھ سکیں۔وَكَذَبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ اور تیری قوم نے تجھے جھٹلا دیا حالانکہ جو بات تو لے کر آیا وہ حق تھی۔قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمُ بِوَکیل ان سے کہہ دے کہ میں تم پر نگران نہیں ہوں۔اللہ کی تقدیر جو فیصلہ کرنا چاہے گی وہ کرے گی اور میں اس میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔تمہیں اللہ کی تقدیر سے نہ میں بچا سکتا ہوں نہ کوئی اور بچا سکتا ہے۔یہ مفہوم ہے قُل نَّسُتُ عَلَيْكُمْ بِوَکیل کا تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو، ان اعمال کی سزا چکھو گے تو مجھے ذمہ دار قرار نہ دو لیکن اس قوم کو دوسری قوموں کی طرح یہ عادت پڑ چکی ہے کہ اپنے گناہوں کی پاداش کو دوسروں کی طرف منتقل کرتے ہیں۔وہ ذمہ داری خود قبول کرنے کی بجائے کسی دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے اس بات کا خوب کھول کر اعلان کیا تھا کہ تو قع تھی کہ یہ ملک اس آئین کو جو عملاً رڈی ہو چکا ہے خود پھاڑ کر پھینک دے گا اور یہ بڑھتا ہوا سیلاب اگر آئین کو غرق نہ