خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 902
خطبات طاہر جلد 16 902 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء ماؤں نے لکھا ہے کہ ہمارے بچے بھی اب سمجھنے لگ گئے ہیں وہ ہمیں بتانے لگے ہیں کہ یہ نماز کا مطلب ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس پو یہ والے حصے کو بھی آپ لوگ ذہن نشین رکھ کر ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے۔ان کو جو میں نے ترکیب بتائی تھی پرسوں اردو کلاس کو ، وہ یہ ترکیب تھی کہ ہر نماز میں ساری نماز پر پورا غور ممکن ہی نہیں ہے۔اگر آپ پورا غور کرنے کی کوشش کریں گے تو ایک دو نمازوں کے بعد ٹوٹ کر بیٹھ جائیں گے۔آپ کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہر نماز میں نماز کا کوئی حصہ اپنے لئے خالص کر لیں اور اس خاص حصے پر غور کریں۔مثلاً سورہ فاتحہ اور باقی سب نمازوں کے متعلق میں ان کو بتا چکا ہوں کہ کیسے کیسے غور کریں گے تو کیسے ان کو لذت محسوس ہوگی۔یک لخت نہیں ہو سکتی۔کوشش کرنی چاہئے مثلاً ایک نماز میں اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پر غور شروع کر دیں۔اب کون بچہ ہے جو رب العلمین کا مضمون نہیں سمجھتا کیونکہ یہ اس کے کھانے کی لذت سے تعلق رکھنے والا ایک مضمون ہے اس سے بہت زیادہ وسیع ہے لیکن کھانے سے تعلق ایک ایسا تعلق ہے جو ہر بچے کو ہے۔چنانچہ جب رب کے متعلق وہ کسی ایک نماز میں غور کریں گے تو بڑی آسانی کے ساتھ ربّ العلمین کے ساتھ ایک تعلق بڑھے گا اور اس کی عظمت کا مضمون دل پر کھلے گا۔پھر آہستہ آہستہ جب میں نے ان کے کھانے کے حوالے سے باتیں کیں تو چھوٹے سے چھوٹے بچے کا بھی منہ کھل اٹھا کہ اچھا یہ مطلب ہے رب العلمین کا ہمیں جو کھانا دیتا ہے، مزہ آتا ہے، بیمار ہوں تو مزہ نہیں آتا۔تو کس کو بلانا ہے یہ باتیں ان کی سمجھ میں آگئیں۔اگر ان کی سمجھ میں آگئی ہیں تو جو بڑے مخاطب ہیں ان کی سمجھ میں کیوں نہ آئیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ اس سبق کو آپ خوب ذہن نشین کریں گے اور آئندہ پھر جو بقیہ اقتباسات ہیں وہ اس کے بعد پیش کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ