خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 900 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 900

خطبات طاہر جلد 16 900 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء بسا اوقات وہ اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو طب کا نظام اور دانشوروں کے مشوروں کی کوئی بھی اہمیت باقی نہ رہتی لازما وہ پاتا ہے یعنی ہر ایک ان میں سے نہیں پاتا مگر بہت ہیں جو پالیتے ہیں اور اسی وجہ سے دنیا میں بعض علاجوں کی اور بعض معالجین کی شہرت ہوتی ہے۔کئی دفعہ میں نے ایسے خطوط موصول کئے ہیں۔آج بھی ایک خط ایک ہندو دوست کا میری نظر سے گزرا جو کینیڈا سے تشریف لائے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ بیماری ہے بیگم کو سب علاج کر کے دیکھے مگر کہیں کوئی فائدہ میسر نہ آیا۔اب وہاں ایک احمدی دوست نے بتایا ہے کہ اس قسم کی بیماری کا آپ مؤثر علاج کر چکے ہیں تو میں اپنے خاندان کو کینیڈا سے لے کے آیا ہوں اور آپ کے پاس وقت نہیں تو کوئی شکوہ نہیں مگر اگر وقت دے سکیں تو میں ضرور ممنون احسان ہوں گا کیونکہ اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔اب دیکھ لیں انسان اپنی حاجت روائی کے لئے کس طرح در بدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔کسی سے سن لیا، کسی سے یہ بات اس تک پہنچی کہ کوئی کامیاب معالج ہے یہاں تک کہ بعض عطائی معالج بھی اس وجہ سے روزی کما رہے ہیں جو پیسہ کمانے کی خاطر جان کر اپنی مصنوعی شہرت کو ہوا دیتے ہیں اور اندر سے بات کچھ بھی نہیں نکلتی۔مگر کبھی کسی مریض کو کوئی تکا لگ گیا، کوئی فائدہ پہنچ گیا تو اس کے لئے ہر جگہ اتنی شہرت خود پھیلانے کا انتظام کرتے ہیں کہ دور دور سے لوگ ان کے پاس آکر اپنے پیسے ضائع کرتے ہیں لیکن نماز کی لذت کے لئے کبھی کسی نے ایسے سفر کئے ہیں حالانکہ دنیا کی جستجو کا میاب ہوتی ہے تو یہاں دل میں کامیابی کا یقین کیوں نہیں ہے۔یہ یقین کا فقدان ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عبارت میں توجہ دلائی ہے۔کیا ہو سکتا ہے کہ مستقل ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں مگر تلاش حق میں مستقل اور پو یہ قدم درکار ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ : 102،101) مستقل تو پتا لگ گیا لوگ عمر بھر ان علاجوں کی تلاش میں وقت لگاتے ہیں کچھ پابھی جاتے ہیں، کچھ نہیں بھی پاتے اس لئے استقلال تو ضروری ہے۔پو یہ قدم بہت ہی پیارا محاورہ ہے۔پو یہ قدم درکار ہیں، پویہ قدم سے مراد یہ ہے کہ جیسے گھوڑا ایسی چال چلتا ہے جس چال سے وہ تھکن محسوس نہیں کرتا۔چلنے سے تھکن محسوس کرتا ہے تیز دوڑنے سے تھکن محسوس کرتا ہے لیکن پو یہ قدم جب اٹھاتا ہے