خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 895 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 895

خطبات طاہر جلد 16 895 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1997ء اٹھانے کی جرات کرے اور یہ واقعہ ایسا ہے جو میں روزانہ دیکھتا تھا۔ جب بھی اس بازار سے گزر ہو مثلاً سکول آتے یا جاتے اور نماز کا وقت ہورہا ہو یا ہو چکا ہو تو وہ بھی ہوئی دوکانیں بغیر کسی دوکاندار کے اسی طرح پڑی رہ جاتی تھیں۔ پس کوئی وجہ ہے ان کو لاز ما لذت محسوس ہوتی تھی نمازوں میں ۔ اگر لذت محسوس نہ ہوتی تو اپنی دنیا کو تیج کر اس طرح قربان کر کے وہ مسجدوں کی طرف نہ دوڑتے۔ پس یہ وہ لذت ہے جس سے دوبارہ آشنائی ضروری ہے اور اس آشنائی کے لئے محنت کرنی ہوگی اور الحمد للہ کہ وہ محنت شروع ہو چکی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ لذت تمام حظوظ نفس سے بالاتر اور بلند ہے ۔ یہ مقام حاصل کرنے میں ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس مقام کی طرف آپ چلنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بہت بڑا اللہ کا احسان ہے جو ہمیں نصیب ہوا ہے ۔ اتنی فکر ضروری ہے۔ اس فکر کے بغیر ہم زندہ رہ ہی نہیں سکتے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جس طرح پر ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے۔“ اگر لذت سے محروم ہے تو دوڑا پھرے گا۔ فرماتے ہیں انسان اپنی زوجیت کے تعلقات سے محروم ہو جاتا ہے تو کس طرح وہ ڈاکٹروں کے پاس دوڑا پھرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بعض ایسے بھی ہمارے علم میں ہیں جو زوجیت کے فرائض انجام دینے کے قابل نہ تھے اور انہوں نے خود کشی کر لی ۔ فرمایا کہ اصل مقصد جس کے لئے یہ لذتیں نصیب ہوتی ہیں وہ اور تھا لیکن لذت اپنی ذات میں مقصد بن گئی اور ان سے محرومی کے نتیجے میں انسان دنیا چھان بیٹھتا ہے، ہر جگہ پہنچتا ہے کہ کسی طرح علاج ہو لیکن نماز جس کی لذت سب لذتوں سے بڑھ کر ہے اس کے لئے فکر مند نہیں ہوتا ۔ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوسمجھ نہیں آرہی اس لئے کہ آپ ہم سے بہت اونچے ہیں اور بہت اونچائی سے نیچے دیکھنے پر بعض دفعہ نیچے کی بار یک بار یک حرکتیں سمجھ نہیں آرہی ہوتیں اگر چہ اس مضمون کا فلسفہ آپ سمجھتے ہیں مگر پھر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ہو کیسے سکتا ہے اتنی عظیم لذت اور دنیا کی لذتوں کے لئے انسان مارا مارا پھر رہا ہے کیڑوں کی طرح اپنی زندگی ضائع کر رہا ہے لیکن اس طرف توجہ نہیں ۔ فرماتے ہیں: