خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد 16 84 = خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء سے بھی تعلق رکھتا ہے، ہر بڑے دائرے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔یہ سفر اجتماعی بننے سے پہلے انفرادی طور پر ہر زندگی کے دائرے سے الگ الگ شروع ہوگا اور یہ مضمون ہے جو میں پہلے بارہا کھول چکا ہوں لیکن اس رمضان کے حوالے سے پھر دوبارہ سمجھانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں سوائے اس علم کے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا کیونکہ اسی آیت میں جس کا میں نے انتخاب کیا تھا اس میں آنحضرت علی ﷺ کو ایک عظیم معلم کے طور پر، ایسے معلم کے طور پر پیش فرمایا جو علم کے ساتھ ساتھ حکمتیں بھی بیان فرماتا چلا جاتا ہے اور صرف عالم ہی نہیں بلکہ حکیم ہے اور اس پہلو سے جو خود جاہلوں میں سے تھا ، امیین میں سے تھا وہ ساری دنیا کو علم سکھانے والا اور ساری دنیا کو حکمتیں سمجھانے والا بن گیا۔پس سبحان کا مضمون جیسا کہ اس آیت میں پہلے بیان ہوا ہے يُسبِّحُ لِلہ سبحان کا مضمون اتنا گہرا مضمون ہے کہ اگر آپ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں تو لا متناہی ترقیات تک یہ مضمون آپ کو پہنچائے گا اور سبحان کے حوالے سے جو قدم اٹھے گا حمد کے مضمون میں داخل ہوتا چلا جائے گا۔پس اس رمضان مبارک میں جب بھی آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور سُبحَنَكَ اللهُمَّ کہتے ہیں تو یہ سوچا کریں کہ کیا آپ ہر پہلو سے خدا کی تسبیح کے گیت گانے کا حق رکھتے ہیں۔کیا واقعہ آپ اللہ کی تعریف کر رہے ہیں کہ تو ہر ایک عیب سے پاک ہے۔اس مضمون کا ایک اور پہلو التحیات کے آغاز میں انسان پر روشن ہوتا ہے جب ہم کہتے ہیں التحيات لله والصلوات والطیبات اور ہمیشہ جب میں یہ پڑھتا ہوں تو توقف کے ساتھ میں اپنا محاسبہ کرتا ہوں کہ اس نماز میں میں کوئی صلوٰۃ اور پاکیزہ باتوں کا تحفہ واقعہ پیش بھی کر رہا ہوں کہ نہیں اور اکثر دل شرمندہ ہوتا ہے کہ منہ سے کہہ رہا ہوں کہ صلوات کے تحفے لایا ہوں ، طیبات کے تحفے لایا ہوں کون سی نئی پاکیزہ چیزیں ہیں جو میں نے اختیار کی ہیں جو خدا کے حضور پیش کر سکوں تو بسا اوقات خالی طشتریاں ہیں جن میں بظاہر کچھ عقیدت کے پھول سجے ہوئے ہیں کچھ تحائف ہیں قیمتی ، انسانی گوہر، انسانی صفات کے بظاہر ، مگر جب آپ غور کریں تو پتا لگتا ہے کہ خالی طشتری پیش ہو رہی تھی۔اس وقت انسان سوائے اس کے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اے خدا اس طشتری کو تو ہی بھر سکتا ہے اور ہم میں طاقت نہیں کہ ہم تیرے حضور ہمیشہ ہر نماز پر نئے نئے تحائف پیش کر سکیں۔