خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 888
خطبات طاہر جلد 16 888 خطبہ جمعہ 5 /دسمبر 1997ء صورت میں ممکن تھا کہ ہماری فوج ان کے ساتھ ہوتی اور اگر فوج صدر صاحب کے ساتھ ہوتی تو لازماً انہوں نے دو سال کے لئے جماعت اسلامی کو مسلط کر دینا تھا۔پس جس چیز میں ہم اپنی برائی دیکھ رہے ہیں خدا کی تقدیر کی نگاہ میں وہ بھلائی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کیونکہ یہی تجزیہ جو حالات کا میں پیش کر رہا ہوں پاکستان کے کئی دوسرے دانشوروں نے یہی نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی بلاء سے ملک کو بچالیا ہے مگر کچھ بلائیں ابھی باقی ہیں۔وہ جو آئینی بحران ہے وہ تو جاری ہے اور آئندہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے لیکن اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ آئینی بحران اسی طرح جاری ہے اور ابھی حل نہیں ہوا۔بہت سے مقدمات جواب جاری ہوئے ہیں بعض لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ سابق چیف جسٹس کو ہٹانے کا یہ اقدام کریں تو اسی اقدام کے تحت آج جو سپریم کورٹ میں بہت سے ججز مسلط ہیں ان کو بھی اسی اقدام کے تابع نکلوا دیا جائے۔یہ جھگڑا، پیلڑائیاں، یہ فسق و فجور، یہ فساد آ پس کے یہ الزامات کہ کروڑ روپیہ کھا کر جوں نے اپنے موقف کو بدلا ہے یہ اسی طرح فضا میں اچھل رہے ہیں اور پاکستان کا ایک بھیانک تصور باقی دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ان حالات کو مستقل جاری نہیں رہنا۔یہ حقیقت ہے اور جاری رہ ہی نہیں سکتے۔جس ملک میں اس قسم کا فساد ہو آخر کچھ نہ کچھ اس فساد کے نتیجے میں انقلاب آنا چاہئے۔وہ انقلاب اگر قانون یعنی موجودہ آئین کو بہا نہ لے گیا تو پھر وہی بات ہوگی کہ آئین اس ملک کو بہالے جائے گا۔یہ فکر ہے جس کے لئے میں جماعت کو بھی متوجہ کرتا ہوں کہ دعاؤں میں اس ملک کو یاد رکھیں۔اکثر احمدیوں کا وطن نہیں ہے کیونکہ بھاری اکثریت احمدیوں کی اب دوسرے ملکوں میں پیدا ہو چکی ہے لیکن اگر میرا وطن ہے یا ان کا وطن ہے جن کی کوششوں اور قربانیوں سے دراصل ساری دنیا میں احمدیت پھیل رہی ہے تو پھر تمام دنیا کو اس ملک سے اس قدر ہمدردی ہونی چاہئے کہ اسے اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالی اس ملک کی بھلائی فرمائے اور ملک کی راہیں اور آئین تبدیل ہو لیکن ملک ہاتھ سے نہ جاتا رہے۔یہ وہ دعا ہے جس کی طرف میں سمجھتا ہوں کہ توجہ کر نالازم تھا۔اور اب میں دعا ہی کے تعلق میں پھر نماز کے مضمون کو شروع کرتا ہوں۔مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ جماعت کو کس قدر اس مضمون کی ضرورت ہے۔ابتداء میں میں نے کہا تھا کہ دو تین خطبوں