خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 886
خطبات طاہر جلد 16 886 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء اور موجودہ صورت حال نے جیسے پلٹا کھایا ہے وہ بھی آپ کو بتا تا ہوں۔خیال یہ تھا کہ عدالت علیاء یعنی سپریم کورٹ جس آئینی بحران کا شکار ہو چکی ہے اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آئین جس نے عدالت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے وہ آئین بھی اس دور میں ہم سے رخصت ہو اور نیا آئین بنے جس میں انصاف اور تقویٰ پر بناء ہو۔یہ توقع تھی اور اس توقع کی وجہ ملک کی خیر خواہی ہی تھی کیونکہ میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگر یہ آئین جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ اسی طرح رہنے دیا گیا اور کوئی اور تبدیلی کا دور ایسا نہ آیا کہ اس آئین کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دے تو یہ آئین ملک کو برباد کر دے گا اور اگر یہ آئین توڑا گیا تو بہتر ہے ورنہ یہ آئین ملک کو توڑ دے گا۔اس لئے آخری بھلائی اور خیر سگالی ملک کی ہے۔یہ بات ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔یا آئین رہے گا ورنہ اس آئین کو ملک کے توڑنے کی کھلی چھٹی دے دی جائے گی۔یہ کیسے اور کب ہو گا اللہ بہتر جانتا ہے۔مگر میرا یہ اندازہ تھا کہ شاید ابھی ارباب حل و عقد کو اتنی ہوش آچکی ہو کہ وہ دیکھ لیں کہ یہ آئین اب ملک کے کسی کام نہیں آسکتا۔ردی کا پرزہ ہے جسے پھاڑ دینا ضروری ہے اور اس آئین کے ساتھ اس ظلم کا بھی پھاڑا جانا ضروری تھا جو جماعت احمدیہ سے وابستہ ہے۔اس آئین میں جتنی دفعہ بھی تبدیلیوں کی کوشش ہوئی ہے ہر تبدیلی کے وقت انصاف کے اس تقاضے کو بھلا دیا گیا کہ بنیادی طور پر یہ آئین نہ وہ آئین ہے جو قائد اعظم چاہتے تھے، نہ وہ آئین ہے جو انصاف اور تقویٰ کا تقاضا چاہتا ہے اور خصوصاً اس آئین میں بار بار جماعت احمدیہ کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ وجہ ہے جو میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر یہ قانون یا یہ بنیادی ملک کا قانون جماعتی حقوق کو اسی طرح نظر انداز کرتا رہا اور اس میں مناسب تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو پھر یہ قانون خود اس ملک کو چاٹ جائے گا جس ملک نے ہمارے حقوق چائے ہوئے ہیں۔اس میں کسی انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں، کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔اس ملک کے قانون بنانے والوں کا خو داب آئندہ اس میں امتحان ہے کہ وہ ناجائز ، غیر منصفانہ قانون کو ملک پر ٹھونسے رکھیں گے یا اسے تبدیل کریں گے۔یہ پہلو جو ہے یہ درستی کے لائق اس لئے ہے کہ احباب نے میرے خطبہ سے کچھ ایسی تو قعات وابستہ کر لی تھیں کہ گویا آئندہ جمعہ سے پہلے پہلے ملک کو ہوش آچکی ہوگی لیکن ان کی بد قسمتی کہئے یا خدا تعالیٰ کی تقدیر کہ کچھ مخفی پہلو تھے جو میری نظر میں نہیں تھے جن کی وجہ سے اب اس معاملے میں کچھ تاخیر ہے۔جو مخفی پہلو تھے