خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 83

خطبات طاہر جلد 16 83 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء والے صاحب علم نہیں ہیں اس لئے مجھے خیال آیا کہ اس مضمون کو نسبتا آسان کر کے بیان کیا جائے۔مگر آنحضرت ﷺ نے جو علم کے حصول کا طریق ہمیں بتایا ہے اس کے لئے کسی ظاہری دنیا وی علم کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے۔سبحان اللہ و بحمدہ کے مضمون کو آپ سمجھ لیں تو بغیر کسی دنیاوی علم کے سہارے کے آپ اتنی ترقی کر سکتے ہیں کہ جو آپ کو ایک بے حقیقت انسان سے ایک عظیم انسان میں تبدیل کر دے گی کیونکہ ان کلمات کا جو اختتام ہے وہ یہ ہے سبحان اللہ العظیم پاک ہے وہ اللہ جو بہت عظمتوں والا ہے۔عليه اورسورۃ جمعہ سے جو میں نے آغا ز کیا ہے وہ بھی اسی وجہ سے کہ آپ کو سمجھاؤں کہ آنحضرت سے برتر مقام محمد تو متصور ہو ہی نہیں سکتا۔حمد کے آخری مقام تک آپ پہنچے ہیں یہاں تک کہ آپ کو سورۃ الحمد عطا کی گئی جس میں در اصل حمد کرنے والا اول معنوں میں حضرت محمد رسول اللہ ہیں اور جس کی حمد کرتے ہیں ایسی کامل کرتے ہیں کہ جو ابا وہ آپ کو محمود بنا دیتا ہے اور حامد محمود ہو جاتا ہے۔حمد کرنے والا محمد بن جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل کے ساتھ اور حیرت انگیز گہرائی کے ساتھ ہمارے سامنے کھولا ہے۔خطبہ کا مضمون جاری تھا کہ روزے کی حالت میں دیر تک بے حس و حرکت کھڑے رہنے کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود ایک پہرے دار کے گرنے پر حضور نے فرمایا: یہاں لمبے عرصے تک کھڑا نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔بسا اوقات سیدھا دیر تک کوئی کھڑا ر ہے تو بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے، وقتی طور پر، ایک دفعہ پہلے بھی ہمارے ایک پہریدار کے ساتھ ہوا تو لوگ گھبرا جاتے ہیں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔خدام الاحمدیہ میں ہم نے اکثر اجتماعات کے موقع پر دیکھا ہے کہ کھڑے کھڑے سارے اٹینشن دیر تک کھڑے رہے تو ایک دم غائب ہو جاتے ہیں تو یہ دیکھنا چاہئے جو منتظمین ہیں ان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ جو کھڑے رہنے والا کام ہے اس میں جلدی جلدی ڈیوٹی بدلا کریں جہاں انسان اپنے ہاتھ پاؤں ہلا ہی نہیں سکتا۔خیر یہ بھی ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں تیج کی بہت ضرورت ہے اللہ کے سوا کوئی بھی کسی قسم کے عیوب سے پاک نہیں ہے۔اچھا اب میں آپ کو بتارہا تھا کہ سبحان اللہ و بحمدہ میں جو مضمون سکھایا گیا ہے اس پر آپ غور کریں تو آپ کا سفر قدم قدم آپ کی زندگی کے سارے دائرے میں، ہر چھوٹے دائرے