خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 876
خطبات طاہر جلد 16 876 خطبہ جمعہ 28 نومبر 1997 ء اللہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کئے تھے وہ تمام تر آج بھی بڑی شان کے ساتھ پورے ہو رہے ہیں پہلے سے بڑھ کر اپنی تعداد اور کمیت کے لحاظ سے، مگر دلوں کا حال اللہ جانتا ہے۔وہی جانتا ہے کہ آج کتنے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے غلاموں کا اپنے معیار کے لحاظ سے مقابلہ کر سکتے ہیں گویا اللہ کو علم ہے اور وہی جزاء دینے والا ہے ہمیں اس بحث میں ، اس مقابلے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے۔میری طرف سے کسی امر کا ارشاد ہوتا ہے تو تعمیل کے لئے تیار۔حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہوسکتی جب تک اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔( ملفوظات جلد اول صفحہ: 224،223) یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے اور اپنی توفیق کے مطابق ہمیشہ شکر ادا کرتا رہتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس اس تعلق میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں جماعت کے ولی اللہ اور خدا کی معیت میں چلنے والے کا ذکر ملتا ہے۔یہ جو تقویٰ کا مقام ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ بڑھتا ہے اور بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک انسان جو تقویٰ سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تقویٰ اس کا زادراہ بن جاتا ہے۔تقویٰ وہ سواری بن جاتا ہے جس میں بیٹھ کر وہ آگے کا سفر کرتا ہے۔تقویٰ وہ اڑن کھٹولا بن جاتا ہے جو اسے لے کر اوپر کی طرف ، بلندیوں کی طرف، رفعت اختیار کرتا ہے۔گویا تقویٰ ایک عجیب چیز ہے کہ جڑ بھی ہے اور آخری مقام بھی ہے۔یہ ہمارے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور ہماری حفاظت کرتا ہے اور تقویٰ اپنے آگے بڑھنے سے نئے نئے رنگ خود سیکھتا ہے جن کی طرف پہلے ہماری توجہ نہیں ہوتی۔پہلی حالت میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے تقویٰ کے تقاضے پورے کر دئے پھر تقویٰ اور اونچا ہو جاتا ہے تو دکھاتا ہے کہ نچلی حالت میں تم تقاضے پورے نہیں کر رہے تھے ، اب کر رہے ہو اور جب یہ سفر آگے بڑھتا ہے تو جب انسان یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اب میں تقاضے پورے کر رہا ہوں اس کو اوپر سے دیکھ کر انسان کہتا ہے نہیں نہیں، یہ خیال تھا کہ میں تقاضے پورے کر رہا ہوں اب میں تقاضے پورے کر رہا ہوں۔پس یہ سفر اور یہ نسبت ہمیشہ قائم