خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 875
خطبات طاہر جلد 16 875 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997 ء دین کرنے والے آگے نہ آگئے ہوں جو اپنی دنیا کے کاروبار کو پیچھے رکھتے ہیں اور خدمت دین کو اولیت دیتے ہیں۔پس یہ ایک بہت ہی مبارک دور ہے۔اس دور میں اگر ہم اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ اور بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گا اور یہ پانی جو ہماری نجات کا پانی ہوگا اور اونچا ہوتا چلا جائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔“ ان الفاظ کو پڑھ کر میرے دل نے تشکر کے آنسو بہائے کہ اللہ کی کیسی شان ہے کہ وہ مخلص وفادار جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو عطا فرمائی تھی وہ آج بھی آپ کی غلامی میں مجھے عطا فرمائی ہے اور تعداد اور کثرت کے لحاظ سے وہ بے شمار ہے، ہر جگہ پھیلتے چلے جارہے ہیں۔فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں۔(اب دیکھیں اس میں ایک ذرہ بھی مبالغہ نہیں کہ آج بھی بعینہ اسی طرح ہو رہا ہے۔جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں۔66 امر واقعہ یہ ہے کہ بعض دفعہ میرے بلانے پر اس تیزی سے آگے بڑھتے ہیں کہ مجھے تعجب ہوتا ہے اور قربانیاں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ میں نے تو اتنا نہیں کہا تھا یہ تو میرے کہنے سے بھی آگے بڑھ کر اپنی جان، مال، عزت سب کچھ اپنی ہتھیلیوں میں ڈال کر میرے لئے لے آئے ہیں۔اس لئے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا غلام ہوں، اس لئے کہ یہ مقدر تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت تقویٰ اور دین کے لئے اور دنیا کے لئے اپنی قربانیوں میں جو خالصہ اللہ ہوں گی ترقی کرتی چلی جائے گی۔آج ایک سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور آج کی عالمگیر جماعت اس بات پر گواہ کھڑی ہے کہ جو برکتوں کا وعدہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا جس تقویٰ کے وعدے