خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد 16 82 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء بیان فرما دیئے گئے۔سبحان اللہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے لیکن محض عیوب سے پاک نہیں و بحمدہ بلکہ اپنی حمد کے ساتھ۔اب جب میں نے پہلے بیان کیا کہ اگر عیب سے پاک ہوں تو اس کے مقابل پر جوحد کی مثبت صفت ہے وہ از خود انسان میں پیدا ہونی چاہئے تو یہ کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہر صورت میں ضرور دکھائی دے۔مثلاً ایک شخص مردانہ صفات سے عاری ہوتا ہے اس لئے پاک ہوتا ہے کہ مردانہ صفات سے ہی عاری ہوتا ہے۔ایک عورت بھی ایسی ہو سکتی ہے یعنی اس کی پاکیزگی اس کی مجبوری کا دوسرا نام ہے۔پس و بِحَمدِكَ کا مضمون ان معنوں میں بھی لازماً صادق آنا چاہئے کہ جب ایک برائی سے پاک ہوں تو پھر حمد کے اندر سفر شروع کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ از خود آپ سچائی کے ہر مرتبے کو پا جائیں گے اگر آپ نے جھوٹ سے توبہ کر لی۔توسبحان الله وبحمدہ کے بعد فرمایا سبحان الله العظیم یعنی حمد کا مضمون لا متناہی ہے۔تم یہ نہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہی تم حمد کے مضمون پر عبور حاصل کر لو گے۔اول تو سبحان کا مضمون بھی ایک جاری مضمون ہے جو عام روز مرہ کی زندگی میں اپنے آخری مرتبے تک حاصل ہو ہی نہیں سکتا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا آپ اپنی برائیاں دور کرنی شروع کریں، اپنے داغ مٹانے شروع کریں ہر مٹتے ہوئے داغ کے پیچھے ایک اور داغ دکھائی دینے لگتا ہے اور یہ جو سفر ہے یہ صرف جھوٹ کے تعلق ہی میں ساری زندگی کا سفر ہے اور اس مقام محمدی تک پہنچنا تو بہت دور کی بات ہے جہاں سبحان کا مضمون اس قدر کامل ہو گیا کہ آپ کا تعارف خدا کی حمد کے ساتھ کر وایا گیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اور بہت ہی عظیم مرتبہ ہے جو سورۃ فاتحہ نے آپ کا بیان فرمایا۔مگر ہم اس آخری عظیم مرتبے کو پا تو نہیں سکتے لیکن اس طرف حرکت کرنا ہمارا فرض ہے اور وہ ہر حرکت سبحان کے ساتھ ہوگی، ہر قدم جو حد کی طرف اٹھے گا وہ سبحان کے ساتھ اٹھے گا۔پس اس پہلو سے مغفرت کے بغیر آپ حمد کو پا ہی نہیں سکتے اور مغفرت کے لئے تسبیح کثرت کے ساتھ کرنا انتہائی ضروری ہے اور آنحضرت ﷺ نے جو دو کلمے ہمیں بتائے ہیں وہ سبحان الله وبحمده سبحان اللہ العظیم ان کا ورد آپ کے لئے بہت سی بخششوں کا موجب بھی بنے گا اور بہت سے اعلیٰ مضامین بھی آپ کو اللہ تعالیٰ خود عطا فرمائے گا۔میں نے ذکر کیا تھا کہ بہت سے سننے