خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 872
خطبات طاہر جلد 16 872 خطبہ جمعہ 28 نومبر 1997ء بھی یہی خیال تھا کہ وہ پہاڑیاں مجھے پناہ دیں گی لیکن ایک پہاڑی سے اوپر منتقل ہوتے ہوئے آخر اس کے لئے ناممکن ہو گیا کہ کسی ایسی جگہ پہنچے جہاں سیلاب کا پانی اس کی پناہ گاہ کو غرق نہ کر دے۔پس بعینم یہی صورت اس وقت پاکستان کے آئینی بحران کی ہے۔ان لوگوں کو بارہا میں نے سمجھایا،خطبات کا ایک سلسلہ ہے جو اس بات کا گواہ ہے کہ میں نے خوب متنبہ کیا۔میں نے کہا جو جو ذرائع تم نے جماعت کے خلاف استعمال کئے ہیں تقدیر الہی نے ہمیشہ تم پر الٹائے ہیں۔کوئی ایک استثناء بنا کے دکھاؤ۔ہمیشہ جو کچھ تم جماعت پر کرتے رہے اللہ کی تقدیر نے انہیں تم پر الٹا دیا اور آئندہ یہی ہوگا لیکن جنہوں نے عقل نہیں کرنی، جن کو کبھی عقل نہیں آیا کرتی یہ وہ آنکھوں والے ہیں جو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں، وہ کانوں والے ہیں جو کانوں سے سنتے ہوئے بھی بہرے ہیں اور اب قوم کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جس سے نکلنے کا کوئی رستہ باقی نہیں سوائے اس کے یہ سارا قانون بھاڑ میں جھونک دیا جائے اور از سر نو انصاف پر مبنی قوانین بنائے جائیں۔اب اس کے سوا کوئی رستہ دکھائی نہیں دے رہا۔اگر یہ پانی میں ڈوبا ہے اس لئے کہ اسے آگ میں جھونکنا پڑتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ قانون تو گیا۔اب یہ قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے اب قوم کے دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ آئندہ قانون میں وہ رخنے نہیں رہنے دیئے جائیں گے جن رخنوں کی راہ سے ملائیت قانون میں داخل ہوتی ہے۔جن رخنوں کی راہ سے نا انصافی قانون میں داخل ہوتی ہے۔ایک ہی قانون ہے جو ملک کی حفاظت کر سکتا ہے جو قانون قائد اعظم نے اپنے بیانات میں پیش کیا اور جس دستور کا قائداعظم نے تصور باندھا تھا۔اس میں ایک بھی ایسا رخنہ نہیں تھا جس کے ذریعے ملاں اس دستور میں دخل اندازی کر سکے۔پس اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔اگر تو انہوں نے عقل حاصل کی نصیحت پکڑی اور آئندہ جو قانون بنائے جائیں ان میں قائد اعظم کے تصور کی طرف واپس لوٹ گئے تو چونکہ وہ تصور انصاف کا تصور تھا اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ ایک ایسی صورت ہے جو اس ملک کو آئندہ ہلاکتوں سے بچالے گی۔اگر انہوں نے ایسانہ کیا تو الہ کی تقدیر تو بہر حال غالب آنی ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔وہ ضرور اپنے کرشمے دکھائے گی اور جو بھی کرشمہ دکھائے گی وہ لازماً جماعت احمدیہ کے حق میں ہوگا۔یہ وہ تقدیر ہے جس کو ملاں بدل نہیں سکتا: اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے (در نشین اردو: 94)