خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 871
خطبات طاہر جلد 16 صلى 871 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997 ء صلى الله اس رسول ملی و مدنی کے سوا میرا ذہن کسی اور کی طرف منتقل نہیں ہوتا جو خاتم النبین ﷺ تھا اور جب بھی میں آپ پر درود بھیجتا ہوں آپ کے سوا کسی اور پر درود نہیں بھیجتا سوائے اس کے کہ درود خود آل کو شامل کرتا ہے اور اس شمولیت میں میرا قصور نہیں بلکہ اگر قصور سمجھتے ہو تو درود بنانے والے کا قصور ہونا چاہئے لیکن جہاں تک محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے جب بھی میں درود بھیجتا ہوں آپ کے سوا کسی پر درود نہیں بھیجتا۔محمد نام سے وہی محمد مراد ہیں جو مکہ اور مدینہ کے محمد ہیں، جو خدا کے آخری صاحب شریعت رسول تھے۔یہ جواب عدالت کی طرف سے ہر ظالمانہ کارروائی کی راہ میں حائل ہوسکتا تھا اور ہونا چاہئے تھا مگر انصاف کے اس بنیادی تقاضے کو کبھی بھی احمدیوں کے حق میں قبول نہیں کیا گیا اور ان سے پوچھے بغیر ان کے خلاف فیصلے دے دئے گئے حالانکہ ان سے پوچھنا چاہئے تھا یہ تمہارا عقیدہ ہے یا نہیں ہے۔وہ جرات سے کہتے ہرگز نہیں ہے۔پھر دنیا کا کوئی قانون ان کو ملزم اور مجرم نہیں بنا سکتا تھا۔پس اس پہلو سے ایک لمبے عرصے تک مظالم کا پانی اوپر چڑھتا رہا اور اس عدلیہ کے ظلم میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہائی کورٹ بھی ڈوب گئی اور ان کے ہاں سے انصاف کا تصور کلیۂ غائب ہو گیا۔پس ان سے اوپر کی پہاڑی سپریم کورٹ کی پہاڑی رہ جاتی تھی جس پر احمدی پناہ لے سکتے تھے اس پہاڑی پر بھی پانی چڑھ گیا اور ایک ایسا بحران قائم ہوا جسے ہم دستوری بحران کہہ سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے بھی ان لوگوں کی حمایت کی جو ظلم کی حمایت کرنے والے تھے۔اب بظاہر احمد یوں کے لئے یہ پہاڑیاں ڈوب گئیں لیکن وہ خدا جس کے علم میں تھا کہ ان کے لئے پہاڑیاں ڈوب جائیں گی اس نے ہمارے لئے کشتی نوح کا انتظام کر رکھا تھا۔ایسا انتظام کر رکھا تھا جس نے کبھی ڈو بنانہیں تھا۔جن پہاڑیوں کو یہ ڈبور ہے تھے یہ اپنی نجات کی راہوں کوختم کر رہے تھے، اپنی پناہ گاہوں کو ڈبور ہے تھے۔آج جو بحران ہے وہ بعینہ یہی صورت ہے۔ان لوگوں نے جنہوں نے احمدیوں کے لئے کوئی پناہ گاہ نہ چھوڑی، اپنے لئے بھی کوئی پناہ گاہ نہ چھوڑی۔اب وہ سب عدالتیں اس پانی میں ڈوب چکی ہیں جو غرقابی کا پانی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان پر اترا ہے اور اس سے نجات کی اب ان کے لئے کوئی راہ باقی نہیں۔وہ ملک جس کا آئین ڈوب جائے ، وہ ملک جس کا آئین جماعت احمدیہ یعنی سچائی کی مخالفت کر رہا ہو اور خدا تعالیٰ اسے غرق کر دے اس کے لئے کوئی پہاڑی باقی نہیں رہا کرتی۔یہی وہ مماثلت ہے جس کی وجہ سے میں نے حضرت نوح کا ذکر کیا۔حضرت نوح کے بیٹے کا