خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 870
خطبات طاہر جلد 16 870 خطبہ جمعہ 28 نومبر 1997ء تھی جو کوئی وجہ جواز رکھتے ہی نہیں تھے ہر ایسی ضمانت کو شروع میں ہائی کورٹ نے قبول کیا مثلاً C-295 کے مقدمات تھے جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی ضمانت نہیں ہوسکتی یہ قانون میں داخل ہے مگر عدالت عظمی نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ ان کی ضمانت ہوسکتی ہے کیونکہ بنیاد ہی جھوٹی ہے اور یہ کیس اس دفعہ سے تعلق ہی نہیں رکھتا کہ جس میں نعوذ باللہ احمد یوں نے حضرت اقدس رسول اللہ اللہ کی گستاخی کی ہو۔کچھ عرصے کے بعد ہائیکورٹ کا رویہ بدل گیا۔ایسے جسٹس وہاں مقرر کئے گئے جن کا مختصر ذکر میں نے کیا ہے اور ان پر علماء کا دباؤ کبھی ایسا تھا کہ بہت سے ایسے اقتباسات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا خلفاء کی کتابوں میں تھے انہیں نکال کر توڑ مروڑ کر ان کے سامنے یہ موقف دیا گیا کہ جب الله احمدی آنحضرت ﷺ پر سلام اور درود بھیجتے ہیں تو بیچ میں سے ان کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ہوتے ہیں اور اوپر سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیج رہے ہیں اور اندر سے مرزا غلام احمد قادیانی پر درود بھیج رہے ہیں۔اوپر سے ان کا کلمہ پڑھتے ہیں اور اندر سے مرزا غلام احمد کا کلمہ پڑھتے ہیں۔اس موقع پر میں نے اپنے وکلاء کو بارہا یہ توجہ بھی دلائی کہ تمام دنیا میں جو انصاف کا تصور ہے وہ ملزم سے پوچھا کرتا ہے یعنی حج کا فرض ہے کہ ملزم سے پوچھے کہ کیا تم جب بھی کلمہ پڑھتے ہو تو دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیتے ہو؟ کیا تم جب بھی درود بھیجتے ہو تو کیا دل میں مرزا غلام احمد قادیانی پر درود بھیجتے ہو؟ یہ ایک بنیادی تقاضا ہے عالمی قانون کا جسے پورا کرنا ہر حج کا فرض ہے۔کسی جماعت کے عقیدے کو ہر فرد کے اوپر اگر وہ عقیدہ ان کے نزدیک قابل اعتراض بھی ہو، ہر فرد بشر پر ٹھونسا نہیں جا سکتا۔موقف ان کا یہ تھا کہ ان کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تم جھوٹے ہو، ان کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بزرگ جن کی یہ کتابیں ہیں وہ یہ سمجھا کرتے تھے کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لوتو دل سے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیا کرو اس سے زیادہ وہ اور کچھ ثابت نہیں کر سکتے تھے یعنی جھوٹے الزام کو اگر تسلیم کرنا بھی تھا تو اس صورت میں کیا جاسکتا تھا۔عالمی قانون کا تقاضا تھا کہ ہر ملزم سے پوچھا جاتا کہ یہ کتابیں ہیں جن سے ہم نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ تم چونکہ اس جماعت کے ممبر ہو تمہارا یہ عقیدہ ہونا چاہئے۔کیا ہے؟ کیا واقعہ تمہارا یہ عقیدہ ہے؟ تو وہ جس پر الزام لگایا گیا تھا بڑی جرات کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ میں اس عقیدے پر لعنت ڈالتا ہوں اور میرا اس عقیدے سے دور کا بھی تعلق نہیں۔جب بھی میں لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں تو