خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 868

خطبات طاہر جلد 16 868 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء متعلق بعض دوستوں کی خواہش ہے کہ میں آج کے خطبے میں ضرور کچھ روشنی ڈالوں کیونکہ بہت گہری اور اہم تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔جماعت احمدیہ کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں بستا ہے جو بھی تبدیلیاں ہوں گی ان پر اثر انداز ہوں گی اور بیرونی دنیا پر بھی ایسی تبدیلیاں اثر انداز ہو سکتی ہیں اس لئے میں نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا اور آج میں اسی ذکر سے خطبے کا آغاز کرتا ہوں۔پاکستان میں جو آئینی بحران پیدا ہو رہا ہے اس کا ایک بہت گہرا اور لمبا تعلق جماعت احمدیہ سے پاکستان کے سلوک سے ہے۔آج وہاں جو جو باتیں بھی ہوں ، جس قسم کی وجوہات پیش کی جارہی ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان معاملات کے جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلق کو کا ٹانہیں جاسکتا۔آپ کو یاد ہوگا کہ ایک لمبے عرصے سے جماعت احمدیہ کے خلاف جو جو بھی ظالمانہ کارروائیاں ہوا کرتی تھیں جماعت احمد یہ عدالت کی طرف رجوع کر کے ان سے اپنی دادرسی چاہتی تھی اور بہت حد تک ان کو چھوٹی عدالتوں سے انصاف مل جاتا تھا یہاں تک کہ نا انصافی کا پانی اونچا ہونا شروع ہوا اور چھوٹی عدالتیں علماء کے خوف اور ان کے دباؤ میں ڈوب گئیں اور یہ نا انصافی کا پانی اور اونچا ہونا شروع ہوا۔ہر ایسے موقع پر جبکہ مچلی عدالتوں کے انصاف کے دروازے بند ہو جایا کرتے تھے جماعت احمد یہ نسبتاً اونچی عدالتوں کی طرف رجوع کرتی تھی اور ضلعی اونچی عدالتیں اس زمانے میں بڑی توجہ سے جماعت کے معاملات پر غور کرتی تھیں اور بسا اوقات جرات کے ساتھ انصاف کا ساتھ دیتی تھیں اور جماعت احمدیہ کے حقوق بحال کر دئے جاتے تھے۔جن کو بھی اس گزشتہ مظالم کی داستان کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ ہمیشہ یہی ہوا کرتا تھا۔آغاز میں ایک مجسٹریٹ بھی جماعت کے معاملے میں انصاف سے کام لیا کرتا تھا۔جب وہاں نا انصافی کا دور دورہ ہوا اور مجسٹریٹ کو مخالفانہ آراء نے دبا لیا تو پھر ضلع کی اونچی عدالتوں نے ہمیشہ جماعت کا ساتھ دیا اور بسا اوقات خطاب میں میں ان کی تعریف بھی کیا کرتا تھا، ان کے لئے دعا کی طرف بھی متوجہ کرتا تھا۔پھر ایک دور آیا کہ یہ پانی اور اونچا ہوا اور نا انصافی کا دباؤ محض نیچے سے ہی نہیں اوپر سے بھی ان عدالتوں پر پڑنے لگا۔اس بناء پر مجھے یہ معلوم ہوا کہ دراصل آغاز میں جب چھوٹی عدالتوں نے نا انصافی شروع کی تھی تو محض عوامی دباؤ کے نتیجے میں ایسا نہیں تھا، حکومت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔حکومت نے ان پر یہ دباؤ ڈالا تھا کہ اگر تم ایسے فیصلے کرو گے تو ہم تمہیں عوام سے کسی قسم کی حفاظت مہیا نہیں کریں گے اس لئے لازماً تمہیں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں