خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 867
خطبات طاہر جلد 16 867 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء اللہ کی تقدیر تو بہر حال غالب آنی ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا ( خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1997ء بمقام بيت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی : المرة ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَةُ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّارَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ) پھر فرمایا: (البقرة:2تا4) نمازوں کے متعلق جو خطبات کا سلسلہ شروع ہوا ہے اسی تعلق میں میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض ایسے اقتباس چنے ہیں جو تقویٰ کے بنیادی کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔اس کے بغیر کوئی بھی حصول نعمت ممکن نہیں۔حصول نعمت سے مراد اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں اور بغیر تقویٰ کے ممکن ہی نہیں کہ ہم کسی قسم کے احسانات کا مورد بن سکیں لیکن اس مضمون کو شروع کرنے سے پہلے میں بظاہر ایک غیر متعلق مضمون سے بات شروع کرنا چاہتا ہوں۔بظاہر غیر متعلق ان معنوں میں کہ یہ تقویٰ اور نماز کی باتیں ہو رہی ہیں اس میں پاکستان کے حالات کا معا کیا ذکر آ گیا، کیا وجہ پیدا ہوگئی کہ پاکستان کے حالات کی طرف ہم متوجہ ہوں۔ظاہر ا تو کوئی تعلق نہیں لیکن فی الحقیقت وہاں جو کچھ ہو رہا ہے تقویٰ کی کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس تعلق میں جو آئینی بحران ہے اس کے