خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد 16 856 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء ہونی چاہئے وہ ایسے موقعوں پر نصیب ہوتی ہے۔ جب دنیوی مشکلات انسان کو گھیرتی ہیں تو طبعا دل میں ایک سوزش پیدا ہوتی ہے اس سوزش سے فائدہ اٹھا لو اور دعا کرو۔ پھر جب وہ مقبول ہوگی تو اللہ کی محبت کی سوزش بھی ساتھ دل میں پیدا ہو جائے گی۔ یہ باریک تعلقات ہیں مگر بالکل حقیقی تعلقات ہیں۔ ان میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ انسانی فطرت اسی طرح چلتی ہے کہ پہلے ایک سوزش دعا میں تبدیل ہوا گر انسان متوجہ ہو اس بات کی طرف اور وہ سوزش کی دعا مقبول ہو جائے اور جس نے یہ قبول کی ہے پھر اس کے لئے ایک محبت پیدا ہو جائے، پھر وہ محبت اتنا بڑھے کہ محبت کی سوزش ہر دنیا کی طلب کی سوزش سے آگے بڑھ جائے ۔ یہ وہ مقام ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں فرماتے ہیں: ” جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب صلى الله اس کا نام صلوۃ ہے۔ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 284،283) اب عام انسان تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہر روز ، ہر لمحہ اس پر ایک موت کی حالت طاری ہو لیکن یہ سوچیں کہ یہ کس کا کلام ہے۔ اس کا کلام ہے جس نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پیروی میں آپ کے قدموں کے نشانات کو چومتے ہوئے سفر کیا۔ یہ لکھتے وقت لازماً آپ کی نگاہ اس آیت پر ہوگی جو پہلے بھی کئی دفعہ پڑھ چکا ہوں : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163) یہ موت جو اللہ کے لئے ہوتی ہے یہ ایک پیاری موت ہے اور اس موت کے اعلان کا خدا تعالی محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے تو اعلان کر کہ مجھے یہ موت نصیب ہو گئی ہے۔ پس عام پڑھنے والا ڈر جاتا ہے ان باتوں کو پڑھ کے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان عبارتوں کو پڑھ کے بعض کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں کہ ہم کیسے یہ سفر کر سکتے ہیں ۔ ہم کون، ہماری مجال کہاں کہ روزانہ ہر وقت موت کا منہ دیکھیں لیکن وہ موت جو کسی پیارے کی خاطر قبول کی جاتی ہے اسی کا دوسرا نام زندگی ہے۔ پس وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِی میں فرق ہی کوئی نہیں۔ اگر اللہ کے لئے ہو اور ہر لمحہ ہو تو جیسے ایک دیکھنے والا دور سے موت دیکھ رہا ہے محسوس کرنے والا اس سے زندگی پاتا ہے اور وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي کے درمیان فرق ہی نہیں کر سکتا ۔ وہ ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔ فرمایا تب اس کا نام صلوٰۃ ہوتا ہے۔ اب اس وقت تک پہنچنے سے پہلے ہم کیا کریں