خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 834 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 834

خطبات طاہر جلد 16 834 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء ہوئی ہیں جہاں پرانے زمانے میں وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہاں کی سخت زمین میں خدا تعالیٰ اس قدر شادابی عطا فرمائے گا کہ جماعت کی نئی نئی کونپلیں وہاں سے پھوٹیں گی۔یہ ایک انقلاب کا دور ہے جو انقلاب اس علاقہ میں بھی شروع ہوگا اور اپنے قاتلوں کو بچانے کے لئے ان کی پوری توجہ اس طرف بھی ہے کہ اس ساری تبلیغی مہم کو جو جماعت نے شروع کر دی ہے اسے ناکام کر دیا جائے ، اسے کلیاً مفقود کر دیا جائے یا معدوم کر دیا جائے۔یہ وجہ ہے جو میں اب جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ دعاؤں میں بھی اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ مباہلے کا سال عطا فرمایا ہے جس کی بہت برکتیں ہم نے دیکھی ہیں۔اس کثرت سے برکتیں نازل ہوئی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ان کا کچھ ذکر میں پہلے بھی کرتا رہا ہوں کچھ آئندہ بھی انشاء اللہ، زیادہ تر جلسہ سالانہ پر کروں گالیکن میں اس حوالے سے جماعت کو اللہ کے حضور یہ التجاء کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان سب مولویوں کو نامراد کر دے جنہوں نے جماعت کے خلاف یہ مہمات شروع کی ہیں اور جہاں تک جماعت کے داعین الی اللہ کا تعلق ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ آگے بڑھتے رہیں۔ویسے بھی تو اس ملک میں بے شمار قتل ہوتے رہتے ہیں اور یہ سال تو مولویوں کے قتل کا سال ہے۔جب وہ قتل کے ذریعے مردو موتیں مرتے ہیں تو جماعت کے اندر اگر ایک دو شہید بھی ہو جائیں تو ہرگز فی الحقیقت مضائقہ نہیں۔ان کے جانے کا دکھ ضرور پہنچتا ہے لیکن اس سے بہتر اور کوئی موت ممکن نہیں کہ انسان شہید ہو جائے۔اس لئے حتی الامکان جہاں تک بھی آپ سے ہوسکتا ہے آپ احتیاط سے کام لیں اور حکمت سے کام لیں۔یہ بزدلی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرآنی احکامات کی روشنی میں کہہ رہا ہوں کہ تبلیغ میں حکمت سے کام لینا اولیت رکھتا ہے اور سب سے زیادہ قرآن کریم نے تبلیغ کے دوران حکمت پر زور دیا ہے۔اس حکمت میں یہ بات داخل ہے کہ اپنی جان سے انسان نہیں ڈرتا بلکہ لوگوں کے روحانی فائدہ کی خاطر اس مہم کو اس طرح چلانا چاہتا ہے کہ لوگ ڈر نہ جائیں۔جو احمدی بے دھڑک تبلیغ کرتا ہے ظاہر ہے کہ وہ ڈرتا نہیں لیکن یہ خوف اس کو ضرور دامن گیر رہنا چاہئے کہ تبلیغ اس طرح بے دھڑک نہ ہو کہ وہ لوگ جو ابھی جماعت میں شامل نہیں وہ ڈرنے لگ جائیں اور ان کی راہ میں یہ شہادتیں روک بن جائیں۔پس یہ ایک پل صراط ہے جس پر سے ہمیں گزرنا ہے۔غیر اللہ کے خوف