خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 833
خطبات طاہر جلد 16 833 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء دوالمیال ہی کی رہنے والی ایک نیک خاتون کو خوشخبری دی تھی کہ یہ واقعہ اس طرح ہوگا اور میری مراد الحاج فضل الہی صاحب برمنگھم کی بیگم صاحبہ فضل نور صاحبہ سے ہے۔لوگ تو اسے اتفاق کہیں گے مگر میں اسے تقدیر الہی سمجھتا ہوں کہ دس اکتوبر کو بروز جمعتہ المبارک جو Friday the 10th تھا فضل نور صاحبہ نے صبح اٹھ کر اپنی ایک رؤیا بیان کی جو اس طرح پر تھی کہ میں جماعت کو یہ خوشخبری دے رہا ہوں که گزشتہ فیصلہ منسوخ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ دوالمیال کی مسجد احمدیوں کو دلا دی ہے۔یہ دس اکتوبر Friday the 10th کی رؤیا ہے جو کچھ عرصے کے بعد فضل الہی صاحب نے بہت سے ے احباب کو سنائی جن میں ملک اشفاق احمد صاحب بھی گواہ ہیں اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے آج کے جمعہ پر میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس رویا کو بعینہ پورا کر دیا ہے اور Friday the 10th کی برکات میں سے ایک یہ برکت بھی ہے کہ وہ مسجد بحال کر دی گئی۔اس ضمن میں میں ایک ایسی افسوسناک اطلاع بھی دیتا ہوں جو افسوسناک بھی ہے مگر اپنے اندر فلاح کا پہلو بھی رکھتی ہے یعنی چوہدری نذیر احمد صاحب گھوئینگی کی شہادت کے تعلق میں میں جماعت کو دعا کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔وہ علاقہ بہت ہی گندہ اور قاتلوں کا علاقہ مشہور ہے جہاں یہ واقعہ ہوا ہے۔وہاں روز مرہ ایک دوسرے کا قتل ایک عام سی بات ہے اور چوٹی کے ایسے مجرم قاتل اس علاقے میں دوڑتے پھرتے ہیں اور پولیس کو ان کے اوپر ہاتھ ڈالنے کی بھی جرات نہیں پڑتی۔ایسے ہی بدقماش ڈاکو مولویوں نے ہمارے نذیر صاحب کو شہید کیا اور اب وہ اپنے آپ کو بچانے کی خاطر تمام علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں اور احمدیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔گویا اس دباؤ کے نتیجے میں وہ اپنی گواہیوں سے باز آجائیں گے، اس مقدمے کی پیروی ترک کر دیں گے اور حکومت بھی ان کے رعب میں آکر ان کے خلاف قتل کے مقدمے کی کارروائی کو کمزور کر دے گی یا جیسا کہ ہمارے ملک میں چلتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بعید نہیں کہ حکومت عدالت کو حکم دے دے کہ اس مقدمے کو ختم سمجھا جائے۔اس دوران ہمارے جو علاقے کے احمدی ہیں ان کو قتل کی بڑی خطرناک دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔جہاں تک اس ساری دھمکیوں اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کا تعلق ہے یہ دراصل تبلیغ سے تعلق رکھنے والی کوششیں ہیں۔پاکستان میں گزشتہ دنوں جواللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو بہت کامیاب تبلیغ کی توفیق ملی ہے، ایسے ایسے علاقوں میں بیعتیں شروع