خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد 16 832 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء تھے لیکن اچانک شعور بیدار ہوا ہے اور یوں معلوم ہوا ہے کہ ہم نے اپنی گزشتہ زندگی ضائع کر دی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم بڑی توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔یہ بہت بڑا ایک احسان ہے خدا تعالیٰ کا کہ اس نے جماعت احمدیہ کو اس زمانے میں نماز کی طرف توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے جبکہ دنیا کی تو جہات نماز سے ہٹ رہی ہیں۔بظاہر نمازیں تو ادا کی جاتی ہیں مگر ان نمازوں میں مغز کوئی نہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع چاہئے وہ ان نمازوں سے مفقود ہے۔ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کسی کی نمازوں کا کیا حال ہے ہمیں اپنی نمازوں کی فکر کرنی چاہئے اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس مضمون پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے، زیادہ نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کی زندگی کا مرکزی نقطہ ہے۔خواہ شروع میں سمجھ آئے یا نہ آئے رفتہ رفتہ ایک وقت ضرور ایسا آجاتا ہے کہ انسان کو اپنی نمازوں میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔اس تعلق میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ایک دوسری خوشخبری میں جماعت کو یہ دینا چاہتا ہوں کہ نماز با جماعت کا تعلق چونکہ مساجد سے ہے اس سلسلے میں ایک مسجد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری عطا فرمائی ہے یعنی مسجد دوالمیال جہلم کے متعلق۔آپ کو یاد ہو گا کہ 30 جون 1997ء کو اس وقت جوسول جج نے جماعت کے متعلق فیصلہ کیا تھاوہ جماعت کے خلاف حکم امتناعی تھا۔اگر چہ اس کا ابتدائی فیصلہ بہت مخالفانہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ اس فیصلہ کے سنانے سے پہلے ہی اس نے کچھ تبدیلیاں کر دیں جس کے نتیجے میں وہ مسجد کبھی بھی ہمارے ہاتھ سے باہر نہیں نکلی۔اگر چہ وہ جمعہ جماعت نے گلیوں میں ادا کیا، بہت روتے ہوئے اور گریہ وزاری کے ساتھ التجائیں کیں لیکن اس کے باوجود مسجد کا قبضہ نہیں چھوڑا اور مسلسل مخالفین کی طرف سے اس سلسلے میں کوششیں ہوتی رہیں کہ کسی طرح ان سے قبضہ نکال لیا جائے۔ان کے خلاف اسی سلسلے میں مقدمہ بھی کیا گیا لیکن 30 جون کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ 10 نومبر کے فیصلے کے ذریعہ الٹ دیا گیا اور یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج چکوال نے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ بہترین جزاء دے۔انہوں نے دس نومبر کے اپنے فیصلے میں پہلے حکم امتناعی کو کلیہ منسوخ کر دیا ہے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مسجد واپس قانونی طور پر بھی جماعت کے قبضے میں آچکی ہے۔یہ واقعہ جو دس نومبر کو گزرا یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی