خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد 16 میں ڈال رکھا ہے۔829 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء یہ امر واقعہ ہے کہ جتنے بھی صوفی اور ملاں لوگ وظیفے بنا بنا کر لوگوں کو سمجھاتے ہیں یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔نماز سے بڑھ کر کوئی وظیفہ نہیں ہے۔سیدھا سادہ جواب ہر مشکل کا یہ ہے کہ نماز پڑھو۔قرآن کریم آغاز سے آخر تک نماز کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جہاں لفظ نماز نہیں بھی آتا وہاں بھی غور کرو تو نماز کا مضمون بیان ہو رہا ہے لیکن اسی سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور ایک نئی شریعت آنحضرت میہ کی شریعت کے مقابلہ میں بنا دی ہوئی ہے“۔جتنا پیر، فقیر وظیفے ، دم درود آپ کو سکھاتے ہیں ، فلاں چیز لکھ لو، فلاں وظیفہ بار بار پڑھو اور تمہاری مشکل حل ہو جائے گی فرمایا یہ مشرک لوگ ہیں جنہوں نے گویا آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت کے مقابل پر ایک اور شریعت بنارکھی ہے۔فرماتے ہیں: مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں۔اب کیا دونوں ایک ہو گئے۔فرمایا مجھ پر تو الزام ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے اور خود شریعت بنائی ہوئی ہے۔اس کے اندر ہی جواب مضمر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو باتیں بیان کر رہے ہیں وہ تو ساری شریعت محمدیہ کی باتیں ہیں ایک بات بھی اپنی طرف سے زائد صلى الله نہیں کر رہے۔تو وہ نبی جو کلیۂ محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام ہو اور آپ ہی کی شریعت کی باتیں کرے اس پر اعتراض کرتے ہیں اور خود عملاً وہ نبی بنے بیٹھے ہیں جنہوں نے نئی شریعتیں ایجاد کر دی ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں بیان فرماتے ہیں: اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔(الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ: 9) اب چونکہ وقت ہو گیا ہے۔باقی انشاء اللہ پھر آئندہ اسی مضمون پر کچھ اور کہیں گے۔