خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 824
خطبات طاہر جلد 16 824 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔( یعنی یوں لگتا ہے کہ ساری دنیا اسلام کے قدموں کے نیچے آ گئی ہے۔) ” جب سے اسے ترک کیا“ (یعنی نماز کو جو دراصل ساری دنیا کے سفر میں ایک گاڑی کی طرح کام دے رہی تھی وہ خود متروک ہو گئے ہیں جب نماز کو ترک کیا یعنی دل لگا کر نماز پڑھنے کو ترک کیا تو نماز نے ان کو چھوڑ دیا۔” درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے“۔یہاں پہنچ کر خوشی اور غمی کا ایک دائی مسئلہ بھی سمجھ آنے لگتا ہے۔اگر کسی انسان کے دل پر غم اور سوز و گداز کی کیفیت طاری نہ ہو تو نہ وہ دنیا کے معشوق کو پاسکتا ہے نہ عقبی کے معشوق کو یعنی اللہ کو۔عشق کے ساتھ ایک سوز لازم ہے اور ایسا انسان جس کے دل میں کبھی عشق جاگاہی نہ ہو وہ عمر بھر نام لیتا رہے گا اللہ کے لیکن وہ اللہ کے نام اس کے دل میں کوئی تموج پیدا نہیں کریں گے ، کوئی حرکت پیدا نہیں کریں گے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت باریکی کے ساتھ آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سے مواقع آپ کو میسر آئیں گے، ان مواقع سے فائدہ اٹھالیں۔شیکسپیئر نے کہا ہے کہ بعض دفعہ سمندر میں بعض پہریں ایسی آتی ہیں کہ وہ کشتیوں کو اپنی منزل تک پہنچادیتی ہیں۔جب ان لہروں سے فائدہ نہ اٹھاؤ تو پھر کبھی بھی وہ کشتی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے در حقیقت رحیمیت کا ایک جلوہ آپ کو دکھایا ہے جس کے ذریعے آپ نماز پڑھنے کا سلیقہ سیکھ سکتے ہیں۔اگر دل کی غفلت کی حالت میں نمازیں پڑھتے رہیں گے ، عمر بھر بھی پڑھتے رہیں کوئی بھی فائدہ نہیں ہو گا لیکن کبھی کسی بچھڑے ہوئے کا غم ہو، کسی بچھڑنے والے کا غم ہو، مرتے ہوئے مریض کا دکھ آپ کو بے چین کر رہا ہو اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد ہیں جو آپ کے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہوں آپ ان کے لئے بے چین ہوں تو وہ وقت ہے کہ جب نماز کے اندر ایک تلاطم پیدا ہو جاتا ہے، ایک بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت کشتی میں بیٹھ کر کی جانے والی دعائیں بھی نماز بن جایا کرتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محض خشک منطق کے ذریعے ہمیں کچھ نہیں