خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 823
خطبات طاہر جلد 16 823 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء اقتباسات پر غور کریں تو آپ کی آنکھیں کھلنی شروع ہو جائیں گی۔بہت سے اقتباسات میں سے چند جو میں نے چنے ہیں بعض آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔فرمایا: ” نماز خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے تو اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا“۔( یہ وہی باتیں ہیں جو میں آپ کو پہلے سمجھا چکا ہوں۔سوخدا تعالیٰ تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دُوری بھی لمبی“۔( بہت دور کی منزل ہے ایسی منزل جو گویا آپ کے تصور کی رفتار سے بھی زیادہ تیز آپ سے دور ہٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے۔جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔اب آپ دیکھ لیں کہ وہی گاڑی والا مضمون گویا نماز میں بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں۔پہلے خود نماز کو گاڑی تو بنا ئیں جب وہ نماز گاڑی بنے گی تو پھر آپ کو لے کے آگے چلے گی اور یہ جو گاڑی بنانے والا مضمون ہے یہ پہلے کئی صورتوں میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں۔آپ نماز کو قائم کریں، نماز آپ کو قائم کرے گی۔ایک انسان نے لمبا سفر کرنا ہوتو پہلے محنت کر کے کشتی تو بنا تا ہے۔خشکی کا سفر کرنا ہوتو کوئی نہ کوئی گاڑی خواہ وہ زمینی گاڑی ہو یا ہوائی جہاز ہوا سے لازماً بنانی پڑیں گی۔یہ نماز کا قیام ہے۔نماز کو ایسا قائم کریں کہ وہ آپ کو لے کر اس سفر پر روانہ ہو جائے جو خدا کی طرف آپ کو پہنچائے گا لیکن محض آپ کا روانہ ہونا کافی نہیں، خدا کا آپ کی طرف روانہ ہونا بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین ، آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر، پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں