خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 819
خطبات طاہر جلد 16 819 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء مانگو گے تو تم نے غیر اللہ کی عبادت کی ہے اور اگر تمہیں پناہ نہیں ملتی تو رونے پیٹنے کا کیا مطلب ہے۔کیا یہی معبود تھا جس پر تمہاری بنا تھی ، کیا اللہ رزاق نہیں ہے، کیا وہ تمام زمینوں کا مالک نہیں ہے؟ جہاں بھی جاؤ گے اگر اس سے تعلق قائم ہے تو ذرہ بھی خوف نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارا کیا بنے گا۔اس لئے عبادت کا مضمون دنیا کی زندگی میں پڑکر ان کے تعلقات میں جگہ جگہ پہچانا جاتا ہے اور ہر انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں کس کی عبادت کر رہا ہوں۔کیا میرا اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا وعدہ سچا تھا یا غلط تھا۔چونکہ یہ بہت وسیع مضمون ہے۔ایک دفعہ میں نے تفصیل سے اس کے بعض مواقع آپ کے سامنے رکھے تھے جن مواقع میں سے گزرتے ہوئے اگر آپ آنکھیں کھولے ہوئے ہوں تو آپ کو اپنی عبادت کی حقیقت معلوم ہو سکتی تھی لیکن میں اسی مضمون کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتا۔میں صرف آپ کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا مضمون اگر آپ نے غور کیا ہو تو بڑا مشکل دکھائی دے گا اور معادل سے یہ آواز اٹھے گی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔اب دیکھیں کتنا عجیب مضمون ہے۔ایک طرف تو رب ، رحمن ، رحیم، مالک کی صفات آپ کو مجبور کر رہی ہیں کہ اپنے فائدے کے لئے اس کی طرف دوڑیں اور دوسری طرف آپ اپنے فائدے کے لئے دوسروں کی طرف بھی دوڑے پھرتے ہیں اور اس کی رضا کے تقاضوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔یہ کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ وقتی ضرورت ہمیشہ دور کے فائدے پر غالب آجایا کرتی ہے۔جونز د یک کا فائدہ ہے وہ دور کے فائدے پر غالب آجایا کرتا ہے اور آپ کو خدا کا فائدہ دور کا فائدہ دکھائی دیتا ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ وقتی طور پر تو یہ مسئلہ حل ہونے دو جب ہمیں پناہ مل جائے گی پھر نیکی کر لیں گے، اللہ کو خوش کرلیں گے۔یہ نزدیک کا فائدہ دور کے دائمی فائدے کو نظروں سے اوجھل کر دیا کرتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ دور کو اپنے نزدیک کریں۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا مضمون سردست میں چھوڑتا ہوں۔میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دور کا فائدہ اگر نزدیک ہو جائے تو وہ فائدہ جس نے عارضی طور پر دور کے فائدے کو نظر انداز کرنے پر آپ کو مجبور کر دیا تھا وہ آپ پر کوئی بھی منفی اثر نہیں ڈال سکتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت دور ہے اتنا دور کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور بہت قریب ہے اتنا قریب کہ آپ کی شہ رگ سے بھی آپ سے زیادہ قریب ہے۔اگر وہ شہ رگ میں آکے بیٹھ رہے اور آپ جانتے ہوں کہ وہ وہاں بیٹھا ہوا ہے تو پھر کوئی نزدیک کا فائدہ اس سے تعلق کی راہ میں