خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 814
خطبات طاہر جلد 16 814 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء پیدا ہونی چاہئے کہ میں رب سے تعلق جوڑوں ، رحمن سے تعلق جوڑوں، رحیم سے بھی جوڑوں اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ سے بھی جوڑوں۔یہ اس کی تعلق کی خواہش کوئی نیکی پر مبنی نہیں ہوتی کیونکہ یہ ایک ایسی خواہش ہے جو طبعی طور پر ہر انسان میں پائی جاتی ہے اور تمام دنیا میں تعلقات کے روابط انہی چار صفات سے قائم ہوتے ہیں۔جو بھی کسی کا رازق ہو، خواہ وہ کمپنی کا مالک ہو یا حکومت کا کوئی بڑا افسر ہو وہ رزق کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ان معنوں میں وہ رب بنتا ہے اگر چہ رب العالمین نہیں یعنی اس کے اندر یہ طاقت ہی نہیں ہوتی کہ بدلتے ہوئے اقتصادی حالات پر بھی کنٹرول کر سکے۔اس لئے ایسے رب جو خاص محدود دائرے سے تعلق رکھنے والے رب ہوں، جب حکومتیں بدلتی ہیں، اقتصادیات میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور بحران پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ رب بے چارے اسی بحران میں ہی بہہ جایا کرتے ہیں کچھ بھی ان کا باقی نہیں رہتا لیکن جب تک ان کے ساتھ کسی کی ربوبیت وابستہ ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ہمیشہ کی ضمانت دینے والے لوگ نہیں ہیں، عارضی طور پر ان کے ساتھ ربوبیت وابستہ ہے، دیکھو کیسا کیسا ان کی خوشامدیں کی جاتی ہیں کس طرح لوگ ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں، انہی کو مائی باپ بناتے ہیں، سب کچھ انسان کے وہی ہو جاتے ہیں۔تو ربوبیت سے تعلق جوڑ نا کوئی نیکی نہیں ہے یہ ایک فطرت کی مجبوری ہے اس کے بغیر کسی کا گزارہ چل ہی نہیں سکتا۔تورَبِّ العلمین کا نام سن کر اگر آپ اس پر غور کریں گے تو یہ بات یاد رکھیں کہ رب سے تعلق جوڑ نارب پر کوئی احسان نہیں ہے ، قطعاً کوئی احسان نہیں ہے۔رب آپ سے تعلق جوڑ لے اور آپ کی محبت کا جواب دے تو یہ اس کا احسان ہے ، آپ کا احسان نہیں۔اس حقیقت کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کیونکہ اکثر نماز پر اعتراض کرنے والے اس حقیقت سے بے خبری کے نتیجے میں اعتراض کرتے ہیں۔دوسرا الرحمن ہے۔کوئی شخص اپنے مزاج کے لحاظ سے بہترین رحمانیت کے نمونے دکھانے والا ہو یعنی ہر شخص سے بہت ہی محبت سے پیش آئے ، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ، خواہ وہ اس کو مانگے یا نہ مانگے ، اس کی سوچ سے بھی پہلے یہ اندازہ لگائے کہ اس کو کسی چیز کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔کون پاگل ہے جو ایسے شخص سے تعلق نہیں جوڑے گا اور اس سے تعلق قائم کر کے یہ سمجھے گا