خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 813
خطبات طاہر جلد 16 813 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء جب تک آپ عبادت کا حق ادا نہ کریں آپ میں یہ طاقت آہی نہیں سکتی کہ برائیوں سے رُک سکیں خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 1997ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی : اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَأَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنكبوت: 46) پھر فرمایا: یہ آیت غالباً میں پہلے بھی نماز کے تسلسل میں پڑھ چکا ہوں اور اس کے بعض مضامین آپ کے سامنے کھول کر پیش کئے تھے۔آج بھی نماز ہی کے تسلسل میں ایک خطبہ ہوگا جس کا بنیادی نکتہ سورۃ فاتحہ ہے۔سورۃ فاتحہ کو خدا تعالیٰ نے دو حصوں میں تقسیم فرما دیا ہے۔پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ سے تعلق رکھنے والا حصہ ہے۔وہ صفات جو کائنات پر جلوہ گر ہوتی ہیں اور انسان پر جلوہ گر ہوتی ہیں وہ چار بنیادی صفات بیان فرمائی گئی ہیں رَبِّ الْعَلَمِينَ في الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ اور مُلِكِ يَوْمِ الدین ان تمام صفات کو انسان سے باندھنے کا ذریعہ کیا ہے یعنی ان صفات پر جتناغور کریں اتنا ہی زیادہ ان میں دلچسپی ہوتی چلی جاتی ہے اور انسان کا بہت دل چاہتا ہے کہ اس نے غور سے ان صفات کو سنا ہو یا نماز میں سنا ہو یا ویسے غور سے پڑھا ہو تو اس کے دل میں بے انتہا خواہش