خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 811
خطبات طاہر جلد 16 811 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء دعائیں لی ہیں اور ایک عزت کا مقام ہے وہ ان کی بیٹی تھیں۔ان کی دوسری شادی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صاحبزادی امتہ المجید سے ہوئی۔ان سے بھی جتنے بچے ہیں نہایت ہی اعلیٰ تربیت ہے ان کی۔بہت مخلص، بہت فدائی۔جب میں انگلستان آیا ہوں تو میرے ساتھ جو دو شخص جماعت کی طرف سے نمائندہ تھے ان میں ایک بریگیڈئیر وقیع الزمان صاحب تھے اور ایک چوہدری حمید نصر اللہ صاحب لاہور کے امیر۔ان سے جو میرے تعلقات کی باتیں یا ہماری خط و کتابت تھی وہ لمبے مضمون ہیں ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اتنا میں جانتا ہوں کہ بڑے فدائی انسان تھے ، بہت ہی بزرگ والد، خوش نصیب ہیں وہ بچے اور خوش نصیب ہے وہ بیوی جن کو وقیع الزمان نصیب ہوئے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔نماز عصر کے بعد انشاءاللہ ان کی نماز جنازہ ہوگی۔( حضور ایدہ اللہ نے مکرمہ ساجدہ حمید صاحبہ کے متعلق خطبہ کے دوران ایک دفعہ سہواً فرمایا کہ مکرمہ قانتہ صاحبہ کی بیٹی کی بیٹی تھیں۔اس پر حاضرین میں سے کسی نے توجہ دلائی تو حضور نے فرمایا) آپ نے ٹھیک بتایا ہے قانتہ جو تھیں ان کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تھی۔دیکھو کتنی بڑی غلطی مجھ سے ہو رہی تھی۔تو خیالات اور طرف بہہ رہے ہوں تو بعض دفعہ ایسی باتیں جن کا علم بھی ہو وہ بھی وقتی طور پر بھول جاتی ہیں۔قانتہ جو مولوی عبد المغنی صاحب کی صاحبزادی تھیں ان سے ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کے لئے بھی بہت ہی بہترین خاوند ثابت ہوئے۔ان کی بچی ساجدہ ہے جس سے قامتہ کے تعلق کی وجہ سے اور بھی زیادہ پیار تھا اور ساری اولاد کہتی ہے کہ بہترین ، بہت ہی عظیم والد تھے۔تو اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے اور انشاء اللہ ابھی نماز عصر کے بعد ان کی نماز جنازہ ہوگی۔جمعہ میں عام طور پر بولنا جائز نہیں مگر یہ بولنا مجھے بہت اچھا لگا ہے۔