خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد 16 810 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء کے نام پر کسی کو مار کے غازی بننے کے دعویدار ہو جاتے ہیں۔سارے پاکستان کا یہ حال ہو چکا ہے۔جب سے احمدیت کو انہوں نے اپنی طرف سے اپنے مزاج میں سے نکالا ہے ایسے ملعون ہو چکے ہیں کہ زندگی کا ہر شعبہ لعنت سے بھر گیا ہے۔کچھ سمجھ نہیں آتی اس ملک کا کیا بنے گا۔اللہ ہی ہے جو ان کو عقل دے۔تو سب سے پہلے تو میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب آف گھوٹینکی کی نماز جنازہ غائب جمعہ کے بعد عصر کی نماز کے بعد پڑھوں گا۔آج عصر کی نماز جمع ہوگی کیونکہ یہ مجبوری ہے۔سردیوں کی وجہ سے اب دن اتنے چھوٹے ہو گئے ہیں کہ جمعہ ختم ہوتے ہوتے عصر کی نماز کے وقت سے مل جاتا ہے تو جب تک یہ سردیوں کے دن نہ بدلیں آئندہ ظہر کی نمازیں نہیں بلکہ جمعہ کی نمازیں عصر کے ساتھ جمع ہوا کریں گی۔اب دوسرے ہمارے عزیز دوست بریگیڈئیر وقیع الزمان صاحب ہیں ان کے کوائف چھپ چکے ہیں۔مجھے اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔میں مختصر اتنا کہوں گا کہ ان کی ہمیشہ خواہش ہوا کرتی تھی، مجھ سے ذکر کیا کرتے تھے کہ میں کسی پر بوجھ نہ بنوں۔اللہ مجھے اس طرح اٹھائے کہ میں کبھی بوجھ نہ بنوں۔چنانچہ ان کا وصال اس طرح ہوا ہے کہ ہارٹ اٹیک نہیں ہوا بلکہ چلتے چلتے دل خود ہی بند ہو گیا۔ایسی ملائمت کے ساتھ کہ کوئی بھی اثر چہرے پر کسی تکلیف کا نہیں ہے۔اخبار پڑھتے پڑھتے وہیں سر جھکا دیا اور میز پر ٹکا دیا اور جب ان کی بیگم نے یہ خیال کیا کہ شاید سوئے ہوئے ہیں، تھک کر سو گئے ہیں، جب قریب جا کر دیکھا تو سانس بند تھا اور فوت ہو چکے تھے۔یہ ان کی وفات بتا رہی ہے کہ اللہ نے ان کو قبول فرما لیا ہے ورنہ اس طرح نیک خواہش کا اظہار خدا تعالیٰ قبول نہیں کیا کرتا جب تک کسی نیک بندے کے دل پر نگاہ نہ ہو اور اسے قبولیت نہ بخشے۔ان کا انگلستان کے ساتھ ایک گہرا تعلق یہ ہے کہ عزیزہ ساجدہ مرحومہ جنہوں نے ہارٹلے پول کو عزت بخشی ، جن کی وجہ سے ان کے میاں اور ان کی کوششوں کی وجہ سے ، ہارٹلے پول میں بڑی زبر دست جماعت بنی ، بڑے مخلص لوگ ہیں جن کو میں خود اب بھی دیکھ کر آیا ہوں ، یہ ان کی بیٹی ہیں۔قانتہ جو مولوی عبد المغنی صاحب کی صاحبزادی تھیں ان سے ان کی شادی ہوئی تھی اور بچی کی ولادت پر یا ولادت کے بعد جلد وہ فوت ہو گئی تھیں۔میں دیکھ کر بتا سکتا ہوں اس بچی کو انہوں نے پالا۔بہر حال یہ کو الف چھپ جائیں گے۔چھوٹی موٹی اس میں غلطی آگے پیچھے ہو تو بے معنی بات ہے میں صرف ذکر یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ساجدہ حمید جنہوں نے سارے انگلستان کی جماعت سے