خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد 16 809 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء اب ایک اور غم اور خوشی کی ملی جلی خبر ہے۔پاکستان سے ایک اور شہادت کی اطلاع ملی ہے۔غم اس لئے کہ اپنا پیارا جب جدا ہو تو غم تو ضرور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جس طرح شہادت کی توفیق بخشی ہے وہ ایک بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔میری مراد ڈاکٹر نذیر احمد صاحب آف گھوئینکی ضلع گوجرانوالہ سے ہے۔ان کے قاتل عنایت شاہ پولیس کی کوشش کی وجہ سے گرفتار ہوئے اور اس پہلو سے میں پولیس کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔پاکستان کے لئے کم ایسا واقعہ ہوا ہے کہ پولیس کے لئے دل سے دعائیں نکلیں لیکن وہاں کے تھانیدار بہت با ضمیر انسان معلوم ہوتے ہیں۔وہ جانتے تھے کہ ڈاکٹر نذیر صاحب اس علاقے کے لئے بے حد خدمت کرنے والے اور بے حد ہر دلعزیز ہیں اور بہت ہی کوئی خبیث فطرت ہے جس نے ان کو قتل کیا ہے۔چنانچہ انہوں نے سارے گاؤں کو اور ساتھ کے گاؤں جس کے متعلق شبہ تھا کہ ان میں سے قاتل نکلے گا ان کو اکٹھا کر کے یہ بتا دیا کہ دیکھو پولیس کے ہاتھ بڑے سخت ہوتے ہیں یا تو تم خود مخبری کرو، بتاؤ کہ کون ہے ورنہ میں پھر دوبارہ آؤں گا اور پھر میں اپنے سارے حربے استعمال کراؤں گا اور تم سے نکلوا کے چھوڑوں گا اس لئے مخبری کرنے والا بہتر ہے کہ خود ہی مخبری کر دے ور نہ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی پکڑا جائے۔چنانچہ اس دھمکی نے جو معنے رکھتی تھی بڑا اثر کیا اور ایک مخبر نے اس بدبخت مولوی کا نام بھیج دیا کہ یہ عنایت شاہ ہے اور، یہ اور اس کا بھائی دونوں دراصل تو طاہر القادری کے مرید ہیں اور انہوں نے ہی ساری شرارت کی ہے اور یہ عجیب مولویت ہے پاکستان میں کہ تقویٰ تو قریب بھی نہیں پھٹکا ہوا، پیسے بھی لے کر بھاگ گئے ، رائفل بھی اس سے نکلوالی اور جا کے نہر کے کنارے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے شہید کیا اور اسی نہر میں ڈال دیا۔مخبر نے جب پولیس کو اطلاع کی تو سیدھا پولیس نے ان کو جا پکڑا اور بعینہ اسی جگہ سے لاش دریافت کر لی اسی طرح ان کو گولیاں لگی ہوئی تھیں۔اس لئے اس معاملے میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ان کو ربوہ میں پوری عزت افزائی کے ساتھ جو ایک شہید کی ہونی چاہئے دفن کیا گیا اور ان کی اولاد میں سب سے بڑے صاحبزادے 35 سال کے ہیں اور اور بھی بچے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنی عنایت کے سائے تلے رکھے اور قاتل کو جو سزا اس دنیا میں ملنی ہے وہ تو ملے گی لیکن مجھے اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ آخرت کی سزا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگی کیونکہ یہ بے حیا لوگ ہیں ، پلید ذات ہیں، جب خدا کا نام لے کر ایسی مجرمانہ حرکتیں کرتے اور ساتھ اپنا پیٹ بھی پال رہے ہیں۔خدا