خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 805
خطبات طاہر جلد 16 805 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء ہوتا ہے۔آپ دنیا کے لحاظ سے ان پڑھ تھے لیکن خدا کی نظر میں تھی تھے اور یہ وجہ ہے کہ آپ کی عبادت خدا کے ہاں محبوب اور مقبول ہوئی ہے۔ہر وہ شخص جو اس تعریف کے بغیر خدا کے حضور عبادت میں حاضر ہوتا ہے اس کی عبادت قبول نہیں کی جاتی۔اگر سچا عبد بننا ہے تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں صلى الله اور آپ کے مطابق اگر دنیاوی تعلیم کا ایک لفظ بھی نہ آپ نے حاصل کیا ہو تو محمد رسول اللہ یہ کی طرح آپ پر کوئی ترقی بھی بند نہیں کی جائے گی۔ظاہری علم کا نہ ہونا خدا کے حضور سخی ہونے کی راہ میں مانع نہیں ہے۔پس ظاہری علم کی پرواہ نہ کریں جو کچھ خدا کے حضور پیش کرنا ہے بہت محبت اور دیانت داری سے جو کچھ حاصل ہے وہ سب کچھ پیش کر دیں۔میں اس مضمون کو دیکھتا ہوں تو میرے نزدیک یہ مضمون بہت ہی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔اگر بظاہر یہ بے جوڑ لفظ دکھائی نہ دیتے تو میری نظر الکتی بھی نہ۔بظاہر بے جوڑ با تیں ہیں لیکن ان بے جوڑ لفظوں کے اندر ہی وہ گہرائی موجود ہے جو اور کہیں موجود نہیں۔آنحضرت ﷺ کو دو وجوہات سے سب دنیا پر فضیلت دی گئی ہے۔ان پڑھ ہونے کے باوجود خدا کے حضور اپنا سب کچھ پیش کر دیا اور بخل نہیں کیا پیش کرنے میں۔جو اموال تھے، جو جان تھی، جو دماغ تھا، جو دل تھا ، جو بھی استطاعت تھی سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیا اس کے نتیجے میں آپ عبد کہلائے وہ عابد بنے جس کو خدا تعالیٰ عابد قرار دیتا ہے اور یہ عبد بنا کر آپ کو وہ علم عطا کیا جو سب دنیا کا معلم بنا دیا۔ان پڑھ سے آغا ز ہوا ہے اور عبادت کی راہ سے کیا کچھ حاصل کر گئے۔خدا کے حضور عبد کہلائے ، اور خدا کے حضور علم میں اتنی ترقی کی کہ دنیا کے علوم نہ پڑھنے کے باوجود خدا نے بے انتہا دیا۔اس مضمون کا تعلق سخی سے ہے اگر بندہ اتناسخی ہو جیسے محمد رسول اللہ یہ بھی تھے کہ جو کچھ ملاتا رہاوہ خدا کے حضور ہی پیش کرتے رہے تو اللہ اس سے بڑھ کر سخی کیوں نہ ہوگا۔تو اللہ کی سخاوت ہے جو صلى الله اس کے شکور ہونے کا تقاضا ہے اور وہ سخاوت بے انتہا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو جولا متناہی مقامات نصیب ہو گئے ہیں وہ اسی حکمت کی وجہ سے تھے کہ آپ نے اپنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کو کچھ بھی نہ سمجھا۔پھر بھی جو تھا پیش کر دیا اللہ نے اس کو اتنی وقعت عطا فرمائی ، اتنی عظمت بخشی کہ ایسے شخص سے خدا نے ایک عجیب سلوک فرمایا جو اس کا تھا وہ سب اس کو دے دیا۔جب آنحضرت ﷺ نے اپنا سب کچھ پیش کر دیا تو اس سے بڑے سخی کا تقاضا کیا تھا کہ وہ اپنا سب کچھ پیش کر دے۔پس دنیا و ما فیہا