خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 803
خطبات طاہر جلد 16 803 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء ان چند آیات میں بیان ہو گئے ہیں یہ عزیز وحکیم کی باتیں ہیں اور اگر تم اسی طرح ان کو سر انجام دو گے جس طرح کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دیا ہے تو یا درکھو کہ خدا کے عزیز ہونے سے عزت پاؤ گے اور اس کے حکیم ہونے سے تمہاری حکمت بڑھے گی اور تم اُولُوا الْأَلْبَابِ (البقرة: 270) میں لکھے جاؤ گے۔جو بھی خدا کی خاطر خرچ کرنے والے ہیں ان کی آخری منزل یہی ہے۔میں نے کوئی ایسا نہیں دیکھا جوان شرائط کو پورا کرتا ہوا خدا کے حضور خرچ کرے اور اسے خدا عزت عطا نہ فرمائے اور اس کی حکمت کو نہ بڑھائے۔ایسے لوگ بالآخر واقعہ اُولُوا الْأَلْبَابِ میں شامل ہو جاتے ہیں۔باقی دنیا والے ان کے مقابل پر بے وقوف اور بے معنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ نے جو کچھ بیان فرمایا میں وقت کی رعایت کے مطابق ان میں سے کچھ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا اور یہ بخاری کتاب الزکوۃ سے روایت ہے۔حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں، فرمایا صدقہ دے کر آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو۔( بخاری کتاب الزکوۃ باب اتقو النار ولو بشق تمرة ) صدقہ دے کر آگ سے بچھو یہ وہ مغفرت والا مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ جو مغفرت فرماتا ہے اگر صدقہ سچا ہو آدھی کھجور بھی ہو تو وہ تمہیں آگ سے بچالے گا۔پس آنحضرت میہ کی نگاہ لازماً ہمیشہ قرآن کریم پر ہوتی ہے کوئی بھی حدیث ایسی نہیں جس کا مصدر قرآن کریم نہ ہو۔ایک روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان ہوئی ہے رسالہ قشیریہ سے لی گئی ہے، غالبا زیادہ وقت نہیں تھا آج پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس، میں نے ان کو کہا تھا کہ اس مضمون کی حدیثیں لیں تو وہ اس وقت جتنی بھی میسر آسکیں دس پندرہ منٹ کے اندر انہوں نے اکٹھی کی ہیں اس لئے اگر حوالوں میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو احباب درگز رفرما ئیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سخی اللہ کے قریب ہوتا ہے۔لوگوں سے قریب ہوتا ہے اور جنت سے قریب ہوتا ہے“۔(رسالہ قشیریہ باب الجودو السخاء صفحہ:122) سخی آدمی سے مراد یہاں وہ بھی ہے جو وَمَن يُوقَ شُحَّ کی تعریف کے اندر داخل ہے۔ہر سخی خدا کے قریب نہیں ہوتا۔لوگوں کے قریب ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ہر سنی لوگوں کے پاس بھی نہیں ہوتا جتنا اس نے دینا ہے لوگ اٹھا لیتے ہیں اور بعد میں اسے گالیاں دیتے چلے جاتے ہیں کہ اتنا کچھ بچا کے رکھا ہوا