خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 801

خطبات طاہر جلد 16 801 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء تو کیا کرے گا۔اس کی تو حدوں کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔سب سے پہلے ہمارے غریبانہ تحفے کو قبول کرنا اس کے شکور ہونے کی علامت ہے۔اگر وہ شکور نہ ہوتا تو ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں تھی اور اسی لئے تمام قربانیاں قبول کی جاتی ہیں کہ اللہ شکور ہے جب قبول کر لیتا ہے تو شکور کے دوسرے معنوں کا آغاز ہوتا ہے پھر وہ اس کی جزاء دینا شروع کر دیتا ہے۔جو توفیق اس نے عطا فرمائی تھی اس کی جزاء کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور حلیم اس میں ایک نئے معنے پیدا کر رہا ہے۔مغفرت جو ہو چکی اس کا تعلق تو غفور رحیم سے تھا یہ شکور کے بعد حلیم کا کیا ذکر ہے۔اس پر اگر غور کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کتنا عظیم مضمون بیان ہوا ہے اور کتنا مربوط مضمون ہے جو اس پہلے حصے سے ایک گہراتعلق رکھتا ہے۔حلیم سے مراد یہ ہے کہ آئندہ بھی تم سے غفلتیں ہوا کریں گی اور یہ اللہ کا علم ہے جوان کو برداشت کرے گا۔پہلی مغفرت تو ہو گئی لیکن آئندہ بھی تو گناہ سرزد ہونے ہیں۔تم نہ بھی چاہو تو پھر بھی ہو جائیں گے۔تو تمہاری مالی قربانی کی جزاء اتنی بڑی مل رہی ہے کہ وہ شکور اس کو بہت طرح بڑھا بڑھا کے تمہیں واپس کر رہا ہے اور مغفرت کا جو سلوک فرمایا تھا اس کو جاری رکھنے کا وعدہ کرتا ہے یعنی ایسی مغفرت نہیں جو ہوئی اور ختم ہو گی بلکہ وہ لامتناہی مغفرت ہے جو حلیم کے سوا کسی اور سے ادا ہو ہی نہیں سکتی۔حلیم ہوگا تو جاری مغفرت کا وعدہ کرے گا۔حلیم نہیں ہوگا تو جاری مغفرت کا وعدہ نہیں کر سکتا۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وہ غیب کا علم رکھنے والا ہے اور شہادت کو بھی جانتا ہے۔اس کے حضور جو تم پیش کرو گے اس سے کوئی دھوکہ نہیں ہوسکتا۔تمہاری بار یک بار یک نیتوں کے فرقوں کو بھی وہ جانتا ہے۔ان ارادوں سے بھی باخبر ہے جن ارادوں کے ساتھ تم کچھ قربانی پیش کرتے ہو۔بسا اوقات یہ ارادے دنیا کو دکھانے کے ہوا کرتے ہیں۔بڑی بڑی قربانیاں بعض لوگ پیش کرتے ہیں اس وقت جب وہ قربانیاں دکھائی دے رہی ہوں۔جب وہ دکھائی نہ دیں تو قربانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔تو علِمُ الْغَيْبِ سے یہ مراد ہے کہ تم خدا سے تو کچھ چھپا نہیں سکو گے۔یہ سارے مضامین جو پہلے بیان ہو چکے ہیں ان مضامین پر گہری نظر رکھ کر بعینہ ان کے مطابق جزاء دینا یہ عالم الغیب کا کام ہو سکتا ہے ورنہ اپنے منہ سے تو انسان اپنی باتوں کی تعریف کیا ہی کرتا ہے۔بڑے چرب زبان بڑی بڑی باتیں بنا کر تھے پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اردگرد بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں کون دیکھ رہا ہے اور کون سن رہا ہے لیکن اللہ کے حضور جو تھے پیش کریں گے وہ علیحدگی میں کئے