خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 800
خطبات طاہر جلد 16 800 خطبہ جمعہ 31 /اکتوبر 1997ء وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمُ الله شکور اور حلیم ہے۔جب مغفرت شروع کرتا ہے تو اس کے بعد جتنے بھی انعامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے وہ اس کے شکور ہونے اور حلیم ہونے سے تعلق رکھتے ہیں۔تم نے تو ظاہری انعامات کی خاطر قربانی نہیں دی خدا کو خوش کرنے کی خاطر قربانی دی اس کی خوشی کا پہلا پھل تمہیں مغفرت کے طور پر نصیب ہوا لیکن یہ آخری پھل نہیں ہے۔وَاللهُ شَكُورٌ حلیم اللہ تعالیٰ بہت ہی شکر یہ ادا کرنے والا ہے اور بہت حلیم ہے۔شکریہ کا تو مضمون سمجھ آ گیا کہ قرضہ حسنہ کو قبول کیا اور اس کے پھل دئے لیکن شکریہ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان کو جو تو فیق ملی ہے قرضہ حسنہ دینے کی یہ اللہ تعالیٰ کے شکور ہونے کا اظہار ہے کیونکہ جو کچھ اس نے قبول کیا ہے وہ شکور ہونے کی وجہ سے قبول کرتا ہے ورنہ ہو سکتا ہے کہ اس کی پیشکش میں بہت سے سقم رہ گئے ہوں۔اب اپنے اوپر آپ اس مضمون کو اطلاق کر کے دیکھ لیجئے۔وہ غریب آدمی جو آپ کی خدمت میں تحفہ پیش کرتا ہے تو آپ شکورہوں گے تو اس کو خوشی سے قبول کریں گے۔شکور نہیں ہوں گے تو خوشی سے قبول نہیں کریں گے۔چھوٹی چیز کو چھوٹا دیکھیں گے۔حقیری چیز ہے وہ لے کے ایک طرف پھینک دیں گے کہ پاگل نے کیا چیز دی ہے ہمیں بھی کوئی اس کی ضرورت ہو سکتی تھی۔یہ سوچ غلط ہے۔اب ہم سیر سے واپس آئے ہیں ہماری اردو کلاس کے بچوں نے ان میز بانوں کو جوان کے اوپر بے شمار خرچ کر چکے تھے اپنی توفیق کے مطابق چھوٹے چھوٹے تھے دئے ہیں اور قبول کرتے وقت ان کی آنکھوں میں اتنا شکر یہ تھا بار بار وہ ان کا شکریہ ادا کر رہے تھے کہ دیکھنے والا حیران ہو جاتا ہے کہ شکریہ کس بات کا۔تم تو ان پر سینکڑوں پاؤنڈ خرچ کر چکے ہو اور دو چار پاؤنڈ کی چیز لے کر تم شکر یہ ادا کر رہے ہو۔یہ مضمون انسانی تعلقات میں بھی کھل جاتا ہے۔وہ واقعہ مشکور تھے۔انہوں نے دیکھا کہ ان بچوں نے اپنی توفیق کے مطابق اپنے تھوڑے پیسوں میں سے کچھ نہ کچھ ڈالا۔ان کو خیال آیا کہ ہماری مہمان نوازی کا شکریہ ادا کریں اور اس خیال نے ان کے شکریہ کی قیمت بڑھا دی۔اب وہ جو اس شکر یہ کو قبول کر رہا ہے وہ شکور ہے ورنہ ایک طرف پھینک سکتا تھا کہ پا گلوتم پر تو میں بہت زیادہ خرچ کر چکا ہوں مجھے کیا تحفہ دے رہے ہو لیکن شکور ہونے کی حیثیت سے اس نے اس ٹیم کی بہت عزت افزائی کی ، سر آنکھوں پہ لگایا کہ اتنا زیادہ آپ نے تکلف کیا، اتنازیادہ خیال رکھا اس کو تو ہم خاص جگہ سجائیں گے ہمیشہ یہ آپ کی یاد دلائے گا۔یہ انسان کا مشکور ہونا ہے۔اب بتائیں کہ خدا جب شکور ہوگا