خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد 16 798 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء ہوئی صلاحیتیں ہیں ان میں خدا تعالیٰ اضافہ فرمائے گا، ان کو مزید تقویت عطا فرمائے گا۔اسی طرح بعض لوگ کپڑے پیش کرتے ہیں خدا کی خاطر، پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے وہ اپنی طرف سے خدا کی خاطر پیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ خدا کی خاطر نہیں ہوتے۔اگر کوئی آپ کو کچھ کپڑے دے اور کہے مجھے واپس کر دو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان میں سے گندے چن کے واپس کریں۔اس لئے نام خدا کا ہے دیتے اس بے چارے کو ہیں جس کو آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی حیثیت مجھ سے کم ہے اس کو جھوٹے گندے بد بودار کپڑے بھی دے دئے جائیں تو وہ خوش ہو کے قبول کر لے گا اس کے پاس چارہ کوئی نہیں۔مگر اللہ کو تو ان کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔تو قرضہ حسنہ میں وہ کپڑے شامل ہوں گے جو آپ کو اچھے دکھائی دیں اور اچھے چن چن کے خدا کے حضور پیش کریں تو یہ قرضہ حسنہ ہے۔گندے کپڑوں کی نہ غریب کو حاجت ہے نہ اللہ کو حاجت ہے مگر اچھا کپڑا نکالتے وقت جو آپ کے دل میں بشاشت پیدا ہوگی وہی اس کا اجر ہے اور ایسی عظیم چیز ہے کہ وہ دل کا شرح صدر، اس کا لطف کہ میں نے ایک بہت اچھی چیز خدا کو دی ہے یہ لطف اپنی ذات میں ایک جزاء ہے اور غریب بیچ میں سے غائب ہو جائے۔یہ لطف تبھی ہوگا اگر خدا کو دیں گے۔خدا کی خاطر غریب کو دیں گے یا خدا کو دیں گے ایک ہی بات ہے۔تو جب خدا کی خاطر آپ دیں گے تو ”حسنہ“ پیش کریں گے اور جب خدا کے حضور حسنہ پیش کریں گے تو جو لطف آئے گا اپنے محبوب کو بہترین چیز دینے کا وہ غریب کو پھٹے پرانے کپڑے دینے کا لطف ہو ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے۔پس جزاء ہے تو اس حسنہ کی جزاء ہے۔حسنہ کے بغیر کوئی جزا نہیں۔غرضیکہ اس مضمون کو اپنی ذات پر پھیلا کر دیکھیں تو قرضہ حسنہ جو خدا کے حضور پیش کیا جاتا ہے انہیں طاقتوں سے پیش کیا جاتا ہے جو آپ کو نصیب ہوئی ہیں۔ان طاقتوں کا بہترین حصہ اللہ کے لئے چن لیں اور اس طرح دیں جیسے تھے دئے جاتے ہیں۔جب یہ کریں گے تو پھر اس کا بڑھانا اللہ کی مرضی پر ہے۔بڑھانا آپ کی شرط نہیں تھی۔جب بڑھانا شرط ہوئی وہاں قرضہ حسنہ ختم ہو گیا۔اس طرح دل کو پاک صاف کرنے کی ضرورت ہے، اتنی باریکی سے اپنی قربانیوں کو ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ قربانیاں واقعی خدا تک راہ پا جائیں اور مین ٹھکانے پر بیٹھیں۔یہ لطیف تجزیئے اگر آپ اپنے نفوس کے نہ کریں گے تو بسا اوقات آپ کی قربانیاں ضائع ہورہی ہوں گی اور آپ کو پتا نہیں چل رہا ہوگا۔