خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 794
خطبات طاہر جلد 16 794 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء کئے بغیر آغاز سے آخر تک تمام مقامات کی طرف اشارے کر دئے۔تم میں جتنی بھی توفیق ہے تقویٰ کو، تقوی اختیار کرو اور اس میں ایک یہ بھی نصیحت ہے کہ تقویٰ کی توفیق ڈھونڈتے رہو۔یہ بہت ہی اہم مضمون کا حصہ ہے جسے ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے۔مَا اسْتَطَعْتُم کا مطلب ہے اپنی توفیق کے مطابق جہاں تک کر سکتے ہو کرتے چلے جاؤ اور تقویٰ، تقویٰ کی استطاعت بڑھاتا ہے۔تو اس پہلو سے فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ کا مطلب یہ بنے گا کہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی جہاں تک توفیق ہے وہ تقویٰ اختیار کرو اور تمہارا تقویٰ تمہاری توفیق بڑھاتا رہے گا۔جب تک تم اسے کھینچ کر اپنی توفیق کی انتہاء تک پہنچاؤ گے تو اس وقت تمہیں اور توفیق ملتی چلی جائے گی اور یہ ایک ایسا حقیقی مضمون ہے کہ جسے تمام خدا تعالیٰ کے سلوک کی راہیں طے کرنے والے جانتے ہیں۔ہمیشہ ہر نیکی نیکیوں کی توفیق کو بڑھاتی ہے۔پس مَا اسْتَطَعْتُم کہہ کر جو نسبتا کمزور تقوئی والے ہیں ان کی بھی ہمت افزائی فرما دی اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ جتنی توفیق ہے کرتے چلے جاؤ لیکن راز کی بات یہ ہے کہ توفیق کے مطابق کرو گے تو تمہاری توفیق ضرور بڑھائی جائے گی۔وَاسْمَعُوا وَأَطِیعُوا سیدھا سا کام ہے۔تقویٰ کا آغا ز سمع اور اطاعت سے ہوتا ہے۔جو کچھ سنتے ہو اس کی اطاعت کرتے رہو کوئی اتنا مشکل کام نہیں۔وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ اور انفاق کرو یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے اپنے لئے بہتر ہے یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنا کسی پر احسان نہیں ہے سوائے اپنی ذات کے اور بہتر کن کن معنوں میں ہے۔وہ سب معانی تقویٰ سے طے ہوں گے۔جتنا تمہیں تقویٰ بڑھانے کی توفیق ملے گی اتنا ہی تمہارے لئے انفاق فی سبیل اللہ بہتر ہوتا چلا جائے گا۔وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ بات دراصل یہ ہے کہ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِہ کا انداز کہنے کا یہ ہے کہ بات تو دراصل یہ ہے کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا جائے ، فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ پس وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔انسان کے نفس کا بخل انسان کے خلاف ہے اور جتنا یہ بخل بڑھے اتنا ہی انسان کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔پس وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِم میں دراصل تقویٰ کا ایک پھل بیان فرما دیا